شٹ ڈاؤن جاری،’ہیلتھ کیئر پر سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

Image caption امریکہ میں آٹھ لاکھ سرکاری ملازموں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ملک میں وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کے خاتمے کے لیے حزب اختلاف کی جانب سے ہیلتھ کیئر کے قانون میں تبدیلی کی شرط تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

امریکہ شٹ ڈاؤن: تصاویر

امریکی شٹ ڈاؤن: کون متاثر ہوگا؟

اس بندش کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ جب یہ ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے تو انہیں اس عرصے کی تنخواہ ملے گی یا نہیں۔

منگل کو براک اوباما نے شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار رپبلکن جماعت کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایوانِ نمائندگان میں ’ایک جماعت کے ایک گروہ کی وجہ سے شٹ ڈاؤن ہوا ہے کیونکہ انہیں ایک قانون پسند نہیں آیا۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ ’رپبلکن جماعت ہیلتھ کیئر پر تاوان کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘

Image caption بندش کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا ہے

امریکی مالی سال تیس ستمبر کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات بارہ بجے ختم ہوا اور اس سے قبل حکومت کے لیے اخراجات کے بل سے متعلق ایک نئی پالیسی کی منظوری ضروری تھی۔

تاہم حکومت اور حزب اختلاف کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے اور یوں غیر اہم سرکاری سروسز بند کرنے کے احکامات دے دیے گئے۔

بجٹ کی منظوری میں رکاوٹ امریکی صدر براک اوباما کے ہیلتھ کیئر پلان پر حزب اختلاف اور حکومت میں اختلافات ہیں۔ رپبلکن جماعت نے بجٹ کی منظوری کے لیے اس قانون کے نفاذ میں کم از کم ایک برس تاخیر کی شرط رکھی تھی جو حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

صدر اوباما نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ بجٹ منظور کرے تاکہ حکومتی محکموں کی بندش کا خاتمہ ہو اور معاشی ’شٹ ڈاؤن‘ سے بچا جا سکے۔

ادھر رپبلکنز نے اس معاملے پر ڈیموکریٹس سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں جماعت کے قائد ایرک کینٹر کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اگر صدر اوباما نے پرجوش تقاریر پر کم اور کانگریس کے ساتھ مل کر معاملے کے لیے حل پر زیادہ وقت صرف کیا ہوتا تو شاید ہمیں اس صورتِ حال کا سامنا ہی نہ کرنا پڑتا۔‘

وائٹ ہاؤس نے رپبلکنز کی جانب سے چند وفاقی شعبوں کے لیے رقم کی فراہمی کا منصوبہ بھی مسترد کر دیا ہے۔ رپبلکنز نے نیشنل پارکس، سابق فوجیوں کے پروگرام اور درالحکومت کے بجٹ کے لیے رقم منظور کرنے کی پیشکش کی تھی۔

اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی فنڈنگ کو تقسیم کرنے کے کسی بھی بل کو ویٹو کر دے گی۔ انتظامیہ کی ترجمان ایمی برنڈیج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ٹکڑوں میں بٹی کوششیں سنجیدگی کا مظہر نہیں۔ یہ حکومت چلانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ صدر اوباما پیر کو ایک ایسا بل منظور کر چکے ہیں جس کے تحت بندش کے عرصے میں امریکی مسلح افواج کو تنخواہیں ملتی رہیں گی۔

ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بینر کے ایک ترجمان نے اس صورتِ حال کو ’منافقانہ‘ قرار دیا ہے۔

اقتدار کے ایوانوں میں ڈیموکریٹس اور رپبلکنز کی اس جنگ کے درمیان امریکی عوام نے ایک سروے میں اس حکومتی محکموں کی بندش کی مخالفت کی ہے۔

کوئینی پیک یونیورسٹی کے جائزے کے مطابق تقریباً 72 فیصد افراد ہیلتھ کیئر بل کی وجہ سے ہونے والے اس ’شٹ ڈاؤن‘ کے حق میں نہیں۔

یہ گذشتہ 17 برس میں پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک مارڈل کے مطابق امریکی سیاست میں موجود خلیج اتنی بڑھ گئی ہے کہ حکومت خود کام نہیں کر پا رہی۔

اسی بارے میں