القاعدہ کے معیار میں کمی، نئے ممبران پر توجہ

Image caption الشباب نے نیروبی میں حملہ کر کے ساٹھ سے زائد افراد ہلاک کر دیے

شدت پسند تنظیم القاعدہ اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے نئے ارکان بھرتی کر رہی ہے لیکن اس نے تنظیم میں شامل ہونے کے معیار کو کم کر دیا ہے۔

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن نہیں چاہتے تھے کہ صومالی شدت پسند تنظیم الشباب کو تنظیم میں شامل کیا جائے۔

القاعدہ کہاں کہیں ہے:خصوصی رپورٹ

شامی گروہ کا القاعدہ سے وفاداری کا اعلان

القاعدہ سے منسلک گروہ اب بھی خطرہ

سال دو ہزار گیارہ میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں اسامہ بن لادن مارے گئے تھے اور ان کی رہائش گاہ سے ملنے والے ایک خط میں انہوں نے الشباب کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایسے افراد کو غیر مناسب سخت سزائیں دیں جن کے جرائم مشکوک تھے۔

تاہم القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کو الشباب کی کمزریوں کی پرواہ نہیں ہے اور انہوں نے اسامہ کی موت کے ایک سال بعد ہی الشباب کو تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت دے دی۔

اقوام متحدہ میں طالبان اور القاعدہ کی نگرانی کرنے والے ٹیم کے رابطہ کار رچرڈ بیرٹ کے مطابق’ وہ تنظیم کو پھیلانا چاہتے ہیں‘۔

الشباب کے القاعدہ میں شامل ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ کی قیادت کا ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے۔ایمن الظواہری اور ان کا گروہ زیادہ مصلحت پسند ہیں اور تنظیم کو وسعت دینے کے معاملے پر اپنے پیشرو سے زیادہ پرجوش نظر آتے ہیں۔

Image caption ایمن الظواہری نے القاعدہ کی رکینت حاصل کرنے کے معیار میں نرمی کی ہے

آسٹریلیا کی وفاقی پولیس انٹیلیجنس کی سابق ماہر لیا فیریل کے مطابق’اگر آپ کسی سے الحاق، فرینچائز اور برانچوں کو شامل کرتے ہیں، تو اس سے القاعدہ پہلے کے مقابلے میں بہت بڑی تنظیم ہو گئی ہے‘۔

تنظیم میں نئے ممبران کو شامل کرنے کا مقصد بہت سادہ ہے۔’وینٹج القاعدہ یعنی القاعدہ کا پھل‘۔

انہوں نے کہا کہ ایمن الظواہری اور ان کے گروہ نے کئی سالوں میں مغرب میں کوئی بڑا حملہ نہیں کیا ہے، اس کی وجہ سے القاعدہ کے رہنما عالمی سطح پر اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے دوسرے راستے اختیار کر رہے ہیں اور اس میں تنظیم میں شمولیت کے معیار پر سختی کم کی ہے۔ ‘

گزشتہ ماہ اکیس ستمبر کو الشباب نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر حملے کر کے ساٹھ سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا اور اس ظالمانہ حملے کے نتیجے میں القاعدہ کا کچھ عرصے کے لیے خبروں میں رہنے کو یقینی بنا دیا۔

اسی دوران القاعدہ سے منسلک گروپ نے شام کے سرحدی علاقے کو کنٹرول سنبھال لیا ہے اور صرف اس گروپ کے رہنما القاعدہ کی چھتری استعمال کرنا چاہتے ہیں بلکہ انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک میں سرگرم شدت پسند گروپ ایمن الظواہری کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں ہیں اور وہ اپنے ہاتھ لہراتے ہوئے کہہ رہے ہیں’براہ مہربانی کیا ہم شامل ہو سکتے ہیں‘؟

’شدت پسند القاعدہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کے گروپ کی شکل تبدیل ہو جائے گی‘۔

Image caption پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں 1600 شدت پسند مارے جا چکے ہیں

نام میں کیا رکھا ہے؟ بہت ہی زیادہ، رچرڈ بیرٹ کے مطابق شدت پسندوں کے خیال میں القاعدہ کے نام سے خالص پن سامنے آتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ بدعنوان نہیں اور آپ بے رحم ہیں لیکن القاعدہ کے ساتھ شامل ہونے کے دیگر مضمرات بھی ہیں۔

’ آپ پر بہت زیادہ یقین کیا جائے گا لیکن اس کے ساتھ اس عہدے سے آپ کی موت بھی یقینی ہے‘۔

واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک نیو امریکن فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان میں گزشتہ نو سال کے دوران ڈرون حملوں میں 1600 شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں القاعدہ کے کئی اہم رہنما ہلاک ہوئے۔

سال دو ہزار گیارہ میں وائٹ ہاؤس کی ایک رپورٹ کے مطابق القاعدہ میں شمولیت کے معیار میں کمی کے نتیجے میں القاعدہ ماضی کے مقابلے میں کہیں بڑی ہو چکی ہے۔

امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کی کیھترین زیمرمین کے مطابق القاعدہ سے منسلک گروپ عراق اور الشباب سمیت جزیرہ نما عرب میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ القاعدہ کے وہ حمایتی بھی شامل ہیں جن کے گروہوں کا القاعدہ سے باقاعدہ الحاق نہیں ہے۔

فیرل کے مطابق امین الظواہری نے القاعدہ میں شمولیت کے عمل کو آسان کر دیا ہے لیکن اب بھی اس میں ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

Image caption شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم سے القاعدہ سے الحاق کا اعلان کیا

’ہنٹنگ ان دی شیڈو‘ کے مصنف سیٹہ جونز کے مطابق شدت پسند رہنما آپس میں خط و کتابت کو نجی رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دستاویز کو ایک یو ایس بی ڈرائیو میں محفوظ کریں اور اسے بعد میں پاکستان میں کورئیر( دستی طور پر دستاویزات پہچانے والا شخصں) کے حوالے کر دیا جائے گا۔

’یہ شخص ان دستاویزات کو ایمن الظواہری تک پہنچا دے گا۔ایک بار شدت پسندوں میں رابط قائم ہو گیا تو پھر یہ شراکت داری کے لیے کام شروع کر دیں گے، نظریات کے مسائل پر بات چیت شروع ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ حملوں کی شرعی حیثیت اور متعلقہ گروپ کے ہداف کے بارے میں بات ہو اور یہ قواعد و ضوابط طے پا جائیں گے تو ایمن الظواہری اس گروپ کے القاعدہ میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کر دیں گے‘۔

ایمن الظواہری کا کہنا ہے کہ مغربی حکام ان کی تنظیم کو ختم نہیں کر سکتے ہیں اور بیرٹ کے مطابق القاعدہ ایک تنظیم سے زیادہ’ایک تصور‘ ہے۔

القاعدہ کی نئے ممبران کی توجہ حاصل کرنے کی طاقت اس کی پراثر خوبی ظاہر کرتی ہے اور اس معلوم ہوتا ہے کہ مغربی حکام کو کن چیلنجز کا سامنا ہو گا جب وہ اس تنظیم سے لاحق خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں