اٹلی: کشتی ڈوبنے سے کم از کم 130 افراد ہلاک

Image caption خیال کیا جاتا ہے کہ کشتی پر تقریباً پانچ سو افراد سوار تھے

روزگار کی تلاش میں یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افریقی تارکین وطن کی ایک کشتی اٹلی کے ساحل کے قریب آگ لگنے کے بعد ڈوب گئی جس میں کم از کم 130 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اٹلی کے ساحلی محافظوں کا کہنا ہے اب تک 94 افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ مزید چلیس لاشیں کشتی کے ملبے سے ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کشتی میں آگ لگنے کے بعد اس پر سوار افراد نے پانی میں چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق کشتی پر سوار زیادہ تر لوگوں کا تعلق صومالیہ اور ایریٹیریا سے تھا۔

اٹلی کے ساحلی محافظوں کا کہنا تھا کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کشتی لیبیا سے آ رہی تھی۔

تارکین وطن کے بینالاقوامی ادارے کی ترجمان سمونا موسریلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک موقع پر کشتی میں آگ لگ گئی اور تمام تارکین وطن ایک طرف چلے گئے جس وجہ سے کشتی الٹ گئی۔‘

ان کے اندازے کے مطابق کشتی پر سوار تقریباً سو خواتین میں سے صرف تین زندہ بچی ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر افراد کو تیراکی نہیں آتی تھی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کشتی پر تقریباً پانچ سو افراد سوار تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک بچہ اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں جبکہ مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اٹلی کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے حوالے بتایا کہ ’لمپیدیوزہ میں حادثہ کسی بھی انسان کے لیے ایک ناقابلِ برداشت المیہ ہے۔‘

علاقے کے میئر نے اس واقعے کے مناظر کو خوفناک قرار دیا۔

اس ہفتے کے اوائل میں بھی سسلی کے ساحل پر پہنچنے کی کوشش میں تیرہ مہاجرین ہلاک ہوگئے تھے۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار الن جونسن کے مطابق سال کے اس وقت میں سمندر کا موسم ٹھیک ہوتا ہے جس کی وجہ سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے مہاجرین روزانہ شمالی اٹلی کے ساحل پر پہنچتے ہیں۔

ان کشتیوں کی حالت خراب ہوتی ہے جس میں عموماً گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہوتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سالوں سے لوگ کشتیاں ڈوبنے سے مرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق سنہ دو ہزار بارہ میں یورپ پہنچنے کی لگن میں 500 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات آئی تھیں۔

اسی بارے میں