ملالہ یوسفزئی کے لیے ایک اور ایوارڈ

Image caption ملالہ یوسفزئی گیارہ اکتوبر کو بوبیل امن انعام کے لیے بھی نامزد ہیں

پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو لندن میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے پر ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

یہ ایوارڈ اس روسی خاتون رپورٹر کے نام پر رکھا گیا ہے جس کو قتل کردیا گیا تھا۔ ہر سال یہ ایوارڈ ایک ایسی خاتون کو دیا جاتا ہے جس نے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے اہم کام کیے ہوں۔

ملالہ یوسفزئی کو یہ ایوارڈ ایک سو چار سالہ نکولس ونٹن نے دیا۔ نکولس نے چیکوسلوواکیہ میں نازیوں سے یہودیوں بچوں کو بچایا تھا۔

را ان وار نامی ایوارڈ کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ سولہ سالہ ملالہ یوسفزئی نے اس وقت آواز بلند کی جب کسی اور کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اور ان کی آواز ان خواتین کی آواز بنی جن کی اپنی کوئی آواز نہیں تھی۔

ملالہ یوسفزئی گیارہ اکتوبر کو بوبیل امن انعام کے لیے بھی نامزد ہیں اور اطلاعات ہیں کہ ان کو ایوارڈ ملنے کے امکانات کافی روشن ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ملالہ یوسف زئی کو ہالینڈ کی تنظیم ’کڈز رائٹس فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے ’انٹرنیشنل چلڈرنز پیس پرائز‘ بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو خواتین کے لیے تعلیم عام کرنے کی کوششوں پر طالبان نے اکتوبر 2012 میں نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کا ابتدائی علاج پاکستان میں کیا گیا اور بعد میں انہیں برطانیہ منتقل کردیا گیا جہاں اب وہ مقیم ہیں۔

اسی بارے میں