شٹ ڈاؤن کی وجہ سے اوباما کا دورۂ ایشیا منسوخ

Image caption صدر براک اوباما نے سنیچر کو ایشیا کے چار ممالک کے دورے پر روانہ ہونا تھا

امریکی صدر براک اوباما نے ملک میں بجٹ کی عدم منظوری کی وجہ سے وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے ایشیائی ممالک کا دورہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے۔

یہ دورہ منسوخ ہونے کی وجہ سے صدر اوباما انڈونیشیا میں ایشیا اور بحرالکاہل کے ممکالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ’اے پیک‘ کے اجلاس سمیت دو سربراہی اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔

اس بارے میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ’یہ فیصلہ ملک میں جاری شٹ ڈاؤن کی وجہ سے بیرونِ ملک سفر میں مشکلات کے باعث کیا گیا ہے۔‘

امریکہ: شٹ ڈاؤن جاری، مذاکرات ناکام

امریکہ شٹ ڈاؤن: تصاویر

امریکی شٹ ڈاؤن: کون متاثر ہوگا؟

امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

انڈونیشیا کے داخلہ امور کے ترجمان تیکیو فیضاسیا نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر براک اوباما نے جمعہ کی صبح انڈونیشیا کے صدر سوسیلی بابانگ یادویونو کو ٹیلی فون کر کے اپنا دورہ منسوخ کرنے پر معذرت کی۔

انھوں نے کہا کہ صدر براک اوباما کے دورے کی کوئی دوسری تاریخ نہیں دی گئی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری انڈونیشیا میں ایپیک اور برونائی میں ہونے والے مشرقی ایشیا کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ’ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے اراکین کی طرف سے حکومتی اداروں کو بندش پر مجبور کرنے کا ایک دوسرا نتیجہ امریکی صدر کے دورے کی منسوخی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ’اس شٹ ڈاؤن کی جس سے مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا، وجہ سے ہم امریکی برآمدات کو بڑھا کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔اس کی وجہ سے ہم دنیا کے ایک بہت بڑے ابھرتے ہوئے خطے میں امریکی رہنمائی اور مفادات کو فروغ نہیں دے سکتے۔‘

خیال رہے کہ صدر براک اوباما نے سنیچر کو ایشیا کے چار ممالک کے دورے پر روانہ ہونا تھا۔ انھوں نے انڈونیشیا اور برونائی کے بعد ملیشیا اور فلپائن جانا تھا۔

Image caption امریکہ میں وفاقی محکموں کی بندش کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو کہا تھا کہ صدر اوباما ملک میں جاری شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ملیشیا اور فلپائن کے اپنے دورے ملتوی کر دیں گے جبکہ وہ انڈونیشیا اور برونائی جائیں گے۔

یاد رہے کہ صدر براک اوباما اور کانگریس کے رہنماؤں کے درمیان مالیاتی بل پاس کرنے کے معاملے پر وائٹ ہاؤس میں بدھ کو ہوئے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ملک میں ابھی تک شٹ ڈاؤن جاری ہے۔

امریکہ کو شاید مستقبل قریب میں ایک اور بحران کا بھی سامنا کرنا پڑے اور اگر قرض لینے کی حد نہیں بڑھائی گئی تو سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کے پاس اپنے اخراجات کے لیے رقم ختم ہو جائے گی۔

اس سے پہلے امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ملک میں وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کے خاتمے کے لیے حزبِ اختلاف کی جانب سے ہیلتھ کیئر کے قانون میں تبدیلی کی شرط تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں نے وفاقی حکومت کو چلانے اور قرضے کی حد بڑھانے کے بدلے براک اوباما اور ان کے ڈیموکریٹ ساتھیوں سےرعایتیں مانگی ہیں۔

ریپبلکن کا بڑا مطالبہ دو ہزار دس میں ڈیموکریٹس کی طرف سے پاس کیے گئے صحت سے متعلق’اوباما کیئر‘ نامی قانون کو ختم کرنا، اسے ملتوی یا اس کے لیے رقم کی فراہمی روکنا ہے۔

امریکہ میں وفاقی محکموں کی بندش کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا ہے اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ جب یہ ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے تو انہیں اس عرصے کی تنخواہ ملے گی یا نہیں۔

کوئینی پیک یونیورسٹی کے جائزے کے مطابق تقریباً 72 فیصد افراد ہیلتھ کیئر بل کی وجہ سے ہونے والے اس ’شٹ ڈاؤن‘ کے حق میں نہیں۔

یہ گذشتہ 17 برس میں پہلا موقع ہے کہ امریکی حکومت کو ’شٹ ڈاؤن‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک مارڈل کے مطابق امریکی سیاست میں موجود خلیج اتنی بڑھ گئی ہے کہ حکومت خود کام نہیں کر پا رہی۔

اسی بارے میں