ایران:’جوہری پلانٹ سبوتاژ کرنے کی کوشش ناکام‘

Image caption ایرانی صدر حسن روحانی نے علی اکبر صالحی کو ایران کے جوہری پروگرم کی سربراہی کی ذمہ داری اگست 2013 میں سونپی ہے

ایران میں اعلیٰ حکام نے کہا ہے کہ چار افراد کو ایک جوہری پلانٹ کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایران کی مقامی میڈیا کے مطابق ایرانی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اتوار کو کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے چاروں افراد کی نقل حرکت پر نگرانی رکھی جا رہی تھی۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق صالحی نے کہا: ’کچھ عرصہ قبل ہمیں سبوتاژ کرنے کی سرگرمی کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ کئی لوگ ایک جوہری پلانٹ کو سبوتاژ کرنے کے کوشش میں ہیں۔‘

’ہم نے ان کی سرگرمیوں میں دخل نہیں دیا اور ان کو ان کے کام میں لگے رہنے دیا تاکہ ہمیں ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل ہو سکیں۔‘

علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ’ان چاروں افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے۔‘ تاہم انہوں نے نہ تو گرفتار شدہ افراد کی قومیت ظاہر کی اور نہ ہی اس مقام کا ذکر کیا جو ان کا ہدف تھا۔

اس سے قبل سنہ 2010 میں ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ طور پر اسرائیل کے تعاون سے ایک امریکی سائبر حملہ ہوا تھا۔ سٹکسنک نامی یہ وائرس بطور خاص یورینیم کی افزودگی کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیاگیا تھا۔

علی اکبر صالحی نے بتایا کہ ’وہاں ابھی تک یہ وائرس ہے لیکن ہم لوگوں نے اس کے ضروی اقدامات کیے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وائرس کے حملے کے بعد سے ہم نے اپنے حفاظتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے اور اس کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا ہے۔‘

واضح رہے کہ یہ تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آيا ہے جب مغربی ممالک کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پر جاری تعطل کو ختم کرنے کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

واقعے سے صرف ایک ہفتے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر اوباما سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ٹیلی فون دراصل ایران کے جوہری پروگرام پر جاری تعطل اور تنازعے کو دور کرنے کی خاطرکیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ تین دہائیوں کے درمیان پہلی بار ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان کوئی بات چیت ہوئی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے تعلق سے ایران اور عالمی قوت کے درمیان اگلے ہفتے معنی خیز بات چیت ہونے والی ہے اور ایرانی صدر روحانی نے میٹنگ میں ایک قابل عمل منصوبہ پیش کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔

ایران کی خواہش ہے کہ اقوام متحدہ نے جوہری پروگرام کے خطرے کے پیش نظر ایران پر جو پابندیاں لگا رکھی ہیں اسے ہٹا لیا جائے۔

اس ضمن میں ایران شروع سے ہی جوہری اسلحے کی ا‌فزائش سے انکار کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ پروگرام توانائی کے لیے ہے۔

اسی بارے میں