اٹلی:مزید لاشیں برآمد، 250 تاحال لاپتہ

Image caption یواین ايچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1988 سے اب تک اس طرح کے حادثے میں یورپ کا رخ کرنے والے 19142 غیر قانونی تاریکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں

اٹلی میں غوطہ خوروں نے لمپیدوزا نامی جزیرے کے قریب جمعرات کو ڈوبنے والی افریقی تارکینِ وطن کی کشتی کے ڈھانچے سے مزید لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو مزید 16 لاشیں نکالی گئی ہیں اور اس طرح مرنے والوں کی تعداد 127 ہو گئی ہے۔

اس کشتی میں 500 افراد سوار تھے اور اطلاعات کے مطابق ان میں سے اب بھی قریباً 250 افراد لاپتہ ہیں جبکہ حادثے میں 155 افراد زندہ بچ گئے ہیں۔

دریں اثناء اٹلی نے بچاؤ مہم میں تاخیر اور سست روی کے الزامات کی تردید کی ہے۔ اطالوی غوطہ خوروں نے خراب موسم اور طغیانی کے سبب 48 گھنٹے کی تاخیر سے تلاش کا کام اتوار کی صبح شروع کیا۔

یہ حادثہ لمپیدوزا جزائر سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر گہرے پانی میں جمعرات کو پیش آيا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ بہت ساری لاشیں غرقاب کشتی میں پھنسی ہوئی ہو سکتی ہیں۔

اس حادثے میں جو غیر قانونی تارکین وطن زندہ بچ گئے ہیں ان سے ’چوری چھپے امیگریشن‘ کے متنازعہ قانون کے تحت تفتیش ہوگی۔ یہ قانوں سنہ 2002 میں دائیں بازو کی جماعت کے ذریعے لاگو کیا گیا تھا۔

اسی دوران غیر قانونی تارکین وطن کی آمد میں اضافے اور حالیہ حادثے کے پیش نظر فرانس نے یورپی یونین کے فوری اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس نے یہ اعلان اٹلی کی جانب سے تارکین وطن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے امداد طلب کرنے کے بعد کیا ہے۔

اس وقت اٹلی میں غیر قانونی طور پر ملک میں آنے کی کوشش کرنے پر پانچ ہزار یورو جرمانے کی سزا ہے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پارلیمان کے ارکان نے شکایت کی ہے کہ اس کی بعض دفعات لوگوں کو پریشانی کا شکار تارکین وطن کی امداد کرنے سے روکتی ہیں۔

سب سے پہلے حادثے کی خبر دینے والے ماہی گیر ویٹو فیؤرینو نے اطالوی ساحلی محافظوں پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔

Image caption یہ واقعہ لامپیدوسا کے ساحل سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ کشتی پر قریب پانچ سو افراد سوار تھے۔

خبر رساں ایجنسی انسا کے مطابق انھوں نے کہا: ’انھوں نے بعض لوگوں کو اپنی کشتی پر سوار کرنے سے انکار کر دیا جو کہ بچائے جا چکے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ضابطے کے خلاف ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے پناہ گزیناں کے مطابق کشتی پر سوار زیادہ تر افراد کا تعلق افریقی ممالک صومالیہ اور ایریٹیریا سے تھا۔

کشتی کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ جب وہ سب لمپیدوزا کے قریب پہنچ رہے تھے اس وقت اس 20 میٹر لمبی کشتی کا انجن خراب ہو گیا تھا اور اس کے اندر پانی داخل ہونے لگا تھا۔

اس وقت کشتی میں سوار بعض لوگوں نے دوسری کشتیوں اور جہازوں کو متوجہ کرنے کی غرض سے آگ جلائی جو کہ پوری کشتی میں پھیل گئی۔

لیبیا کی بندرگاہ مصراتہ سے آنے والی یہ کشتی اس وقت غرقاب ہوئی جب آگ سے بچنے کے لیے کشتی پر سوار سارے لوگ کشتی میں ایک طرف آگئے۔

یواین ايچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1988 سے اب تک اس طرح کے حادثوں میں یورپ کا رخ کرنے والے 19142 غیر قانونی تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں