امریکہ کمانڈوز کی کارروائی کی وضاحت کرے:لیبیا

Image caption 49 سالہ انس اللبّی کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر تھا

لیبیا کے وزیراعظم نے اپنی سرزمین پر امریکی کمانڈوز کی کارروائی پر امریکہ سے وضاحت طلب کی ہے۔

امریکہ کے خصوصی فوجی دستوں نے سنیچر کو افریقی ممالک لیبیا اور صومالیہ میں شدت پسند جنگجوؤں کے خلاف دو الگ الگ چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں۔

امریکہ کی افریقہ میں الشباب اور القاعدہ کے خلاف کارروائی

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ہونے والی ایک کارروائی میں القاعدہ کے رہنما انس اللبّی کو پکڑا گیا جنہیں امریکہ کے مطابق ’قانونی طریقے سے لیبیا سے باہر ایک محفوظ جگہ پر زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔‘

وزیراعظم علی زیدان کے دفتر کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی لیبیائی شہری پر لیبیا میں ہی مقدمہ چلانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

لیبیائی حکومت کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت امریکی حکومت کو مطلوب لیبیائی شہری کے بارے میں خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

حکام کے مطابق ’جب سے ہمیں یہ پتا چلا، ہم امریکی حکومت سے رابطے میں ہیں اور ان سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’حکومت لیبیائی شہریوں پر ملک کے اندر ہی مقدمہ چلانا چاہتی ہے چاہے ان پر کسی بھی قسم کے الزامات کیوں نہ ہوں۔ الزامات ثابت ہونے تک ملزم بےقصور ہی ہوتا ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس بیان سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ لیبیا کی حکومت اس کارروائی کے بارے میں اگر کچھ جانتی بھی تھی تو وہ کیا تھا‘۔

اس سے قبل ایک امریکی عہدے دار نے سی این این کو بتایا تھا کہ یہ کارروائی لیبیا کی حکومت کے علم میں تھی۔ پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے کہا: ’لبی اس وقت قانونی طریقے سے امریکی فوج کی حراست میں ہے اور اسے لیبیا سے باہر ایک محفوظ جگہ پر رکھا گیا ہے۔‘

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکی کمانڈوز کی یہ کارروائیاں دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے کے امریکی عزم کی مثال ہیں۔

انڈونیشیا کے دورے کے دوران جان کیری نے صحافیوں کو بتایا کہ لیبیا اور صومالیہ میں کیے جانے والے آپریشن ظاہر کرتے ہیں امریکہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اپنی کوششیں ترک نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی مفادات پر حملہ کرنے والے ’بھاگ تو سکتے ہیں مگر چُھپ نہیں سکتے۔‘

خیال رہے کہ طرابلس سے حراست میں لیے جانے والے 49 سالہ اللبّی پر 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملے کرنے کا الزام ہے اور ایک امریکی عدالت نے ان پر فردِ جرم عائد کر رکھی ہے۔

اللبّی کا اصل نام نزیہ عبدالحمید الرقیعی ہے، اور ان کا نام امریکی ایف بی آئی کی سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست پر ایک عشرے سے موجود ہے۔ ان کے سر پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر تھا۔

صومالیہ میں ’ناکام‘ کارروائی

امریکی کمانڈوز نے سنیچر کو ہی ایک اور کارروائی میں صومالیہ میں شدت پسند تنظیم الشباب کے سینیئر رہنما کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن خیال ہے کہ یہ کارروائی ناکام ہوگئی۔

الشباب کے اس رہنما کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن شبہ ہے کہ وہ گذشتہ ماہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر حملے میں ملوث تھے جس میں کم از کم 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کے خصوصی دستوں نے صومالیہ کے ساحلی قصبے براوی میں کارروائی کی ہے۔ ترجمان جارج لٹل نے بتایا کہ امریکی دستوں نے ’الشباب کے ایک مشہور دہشت گرد کے خلاف کارروائی کی ہے۔‘ تاہم انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے ایسے ذرائع کے حوالے سے بتایا جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، کہ امریکی فوجی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔

ایک امریکی سکیورٹی اہلکار نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ’براوی پر چھاپے کی منصوبہ بندی ایک ہفتے پہلے کی گئی تھی۔‘

سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیروبی میں الشباب کی جانب سے کیے گئے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ کارروائی ویسٹ گیٹ پر کیے گئے حملے کے جواب میں کی گئی۔‘

اس سے پہلے الشباب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سفید فام فوجی‘ کشتی کے ذریعے براوی پہنچے تھے لیکن الشباب نے ان کا حملہ پسپا کر دیا۔ مقامی گروپ کمانڈر محمد ابو سلیمان نے کہا کہ یہ کارروائی ناکام ہوگئی ہے اور براوی پر اب بھی ان کا کنٹرول ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے خصوصی فوجی دستے نے 2009 میں براوی میں کارروائی کر کے الشباب کے رہنما صالح علی صالح نبھان کو ہلاک کیا تھا۔

اسی بارے میں