اٹلی: ہلاکتوں کی تعداد 194، 200 تاحال لاپتہ

Image caption اس کشتی میں 500 افراد سوار تھے اور اطلاعات کے مطابق ان میں سے اب بھی قریباً 200 افراد لاپتہ ہیں

اٹلی میں غوطہ خوروں نے لمپیدوزا جزیرے کے قریب جمعرات کو ڈوبنے والی افریقی تارکینِ وطن کی کشتی سے مزید لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ دو سو افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

اتوار کو مزید 83 لاشیں نکالی گئی ہیں اور اس طرح مرنے والوں کی تعداد 194 ہو گئی ہے۔

اس کشتی میں 500 افراد سوار تھے اور اطلاعات کے مطابق ان میں سے تقریباً 200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ حادثے میں 155 افراد زندہ بچ گئے ہیں۔

تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میں آمد سے نمٹنے کے لیے اٹلی کی طرف سے امداد کی درخواست کے بعد فرانس نے یورپین یونین کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن شمالی افریقہ سے اس خطرناک سمندری راستے سے سیسلی اور اٹلی کے دیگر جزائر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش کے دوران حادثات عام ہیں لیکن گذشتہ ہفتے کشتی کے ڈوبنے کا جو حادثہ ہوا وہ تاریخ میں سب سے تباہ کن واقعہ ہے۔

اٹلی پر امدادی مہم میں تاخیر اور سست روی کے الزامات کا سامنا ہے جس کی اس نے تردید کی ہے۔ اطالوی غوطہ خوروں نے خراب موسم اور طغیانی کے سبب 48 گھنٹے کی تاخیر سے تلاش کا کام اتوار کی صبح شروع کیا۔

یہ حادثہ لمپیدوزا جزائر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گہرے پانی میں جمعرات کو پیش آيا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ بہت ساری لاشیں غرقاب کشتی میں پھنسی ہوئی ہو سکتی ہیں۔

اس حادثے میں جو غیر قانونی تارکین وطن زندہ بچ گئے ہیں ان سے ’چوری چھپے‘ امیگریشن کے متنازعہ قانون کے تحت تفتیش ہوگی۔ یہ قانون سنہ 2002 میں دائیں بازو کی جماعت کے ذریعے لاگو کیا گیا تھا۔

اس وقت اٹلی میں غیر قانونی طور پر ملک میں آنے کی کوشش کرنے پر پانچ ہزار یورو جرمانے کی سزا ہے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Image caption اس حادثے میں 155 افراد زندہ بچ گئے ہیں

پارلیمان کے ارکان نے شکایت کی ہے کہ اس کی بعض دفعات لوگوں کو پریشانی کا شکار تارکین وطن کی امداد کرنے سے روکتی ہیں۔

سب سے پہلے حادثے کی خبر دینے والے ماہی گیر ویٹو فیؤرینو نے اطالوی ساحلی محافظوں پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے پناہ گزیناں کے مطابق کشتی پر سوار زیادہ تر افراد کا تعلق افریقی ممالک صومالیہ اور ایریٹیریا سے تھا۔

یواین ايچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1988 سے اب تک اس طرح کے حادثوں میں یورپ کا رخ کرنے والے 19142 غیر قانونی تارکینِ وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں