نیٹو نے بہت تکلیف پہنچائی ہے: صدر کرزئی

Image caption حکومت کی تمام اسلامی شدت پسندوں گروہوں سے بات چیت جاری ہے: صدر کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے شمالی بحرِاوقیانوس کے ممالک کے اتحاد نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں اس کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موجودگی کے باوجود ملک مستحکم نہیں ہو سکا ہے۔

افغان صدر کے بقول ’سکیورٹی کے معاملے پر نیٹو کی کارروائیوں سے افغانستان کو بہت زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا اور حاصل کچھ نہیں ہوا کیونکہ ملک ابھی تک محفوظ نہیں ہے‘۔

’ضمانت کے بغیر سٹریٹیجک معاہدہ افغانستان کے حق میں نہیں‘

’دہشت گردی‘ کے افغان الزامات کی پھر تردید

انہوں نے کہا کہ نیٹو نے غلطی کرتے ہوئے لڑائی میں توجہ پاکستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کی بجائے افغان دیہات پر دی۔

افغان صدر کے عہدۂ صدارت کی مدت چھ ماہ بعد ختم ہونے والی ہے۔

حامد کرزئی نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیٹو کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا’ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی نہیں ہوتی کہ یہاں جزوی سکیورٹی ہے، یہ وہ نہیں تھا جو ہم چاہتے تھے، ہم چاہتے تھے کہ مکمل طور پر سکیورٹی ہو اور دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ ہو‘۔

’اب میری ترجیح ہے کہ افغانستان میں امن اور سکیورٹی قائم ہو اور جس میں طالبان کے ساتھ اقتدار کی شراکت داری کا معاہدہ ہو‘۔

صدر کرزئی کے مطابق اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کی تمام اسلامی شدت پسندوں گروہوں سے بات چیت جاری ہے: ’وہ افغان ہیں، جہاں افغان صدر اور حکومت طالبان کو حکومتی ذمہ داری دے سکتی ہے لیکن جہاں افغان عوام انتخابات کے ذریعے حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہے تو اس صورت میں طالبان کو آ کر انتخابات میں حصہ لینا چاہیے‘۔

صدر کرزئی نے طالبان کو حکومت میں شامل کیے جانے کی صورت میں خواتین کے حقوق پر پائی جانی والی تشویش کو رد کرتے ہوئے کہا کہ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں اور خواتین پڑھیں گی اور اعلیٰ تعلیم اور ملازمتیں حاصل کریں گی۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اگر طالبان بھی آتے ہیں تو یہ عمل سست روی کا شکار ہو گا۔‘

امریکہ افغان صدارتی انتخابات سے پہلے صدر کرزئی سے سکیورٹی کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے جس میں سال دو ہزار چودہ میں غیر ملکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان سے امریکی تعلقات کا باضابطہ تعین ہو گا۔

امریکہ چاہتا ہے کہ 2014 میں افغانستان میں امریکی افواج کی اکثریت وہاں سے چلی جائے البتہ وہ اس کے بعد بھی دس ہزار فوجی افغانستان میں رکھنا چاہتا ہے۔

Image caption افغان صدر نیٹو کی کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت پر متعدد بار سخت تنقید کر چکے ہیں

تاہم صدر کرزئی کے مطابق انہیں اس معاہدے پر دستخط کرنے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔’اگر معاہدہ ہمیں مناسب نہیں لگتا تو وہ(امریکی) جا سکتے ہیں، معاہدہ افغان مفادات اور مقاصد کے مطابق ہونا چاہیے، اگر ہمارے لیے اور ان کے لیے مناسب نہیں ہے تو قدرتی بات ہے کہ دونوں کے راستے الگ ہوں گے‘۔

افغانستان اور اس کے مغربی اتحادیوں کے تعلقات گزشتہ چند سالوں سے کشیدگی کا شکار ہیں اور افغان صدر کرزئی نے متعدد بار کھلے عام نیٹو پر ننقید کی ہے۔

صدر کرزئی نے نیوز نائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد شروع کے چند سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اچھے رہے کیونکہ ’شروع کے سالوں میں ہمارے موقف میں کوئی خاص فرق نہیں تھا‘۔

’تعلقات 2005 میں اس وقت خراب ہونا شروع ہوئے جب پہلی بار عام شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا، اور اس وقت ہم نے دیکھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جہاں ہونی چاہی تھی وہاں نہیں ہو رہی ہے‘۔

صدر کرزئی کے بقول جنگ افغانستان سے باہر’محفوظ پناہ گاہوں‘ اور تربیتی مراکز میں لڑی جانی چاہیے تھی، بجائے اس کہ نیٹو عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان کے دیہاتوں میں آپریشن کرے‘۔

اسی بارے میں