شامی حکومت تعریف کی حقدار ہے: جان کیری

Image caption جان کیری نے ہتھیاروں کی تلفی کے عمل میں تیزی پر شامی حکومت کی تعریف کی

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے معاہدے پر عمل کرنے پر شامی صدر بشار الاسد کی حکومت تعریف کی مستحق ہے۔

انڈونیشیا میں اپنے روسی ہم منصب سرگے لاوروف سے ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل ریکارڈ وقت میں شروع کر دیا گیا ہے اور ہم روسی اور شامی تعاون کے لیے ان کے ممنون ہیں۔‘

جان کیری نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ انتہائی اہم ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی منظوری کے ایک ہفتے کے اندر اندر گذشتہ روز اتوار کو کچھ کیمیائی ہتھیار تباہ کیے گئے ہیں۔‘

’شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل شروع‘

شام کے تنازع میں جرمنی ثالثی کر سکتا ہے: بشار الاسد

’میرے خیال میں اس کے لیے اسد حکومت تعریف کی حقدار ہے۔ یہ ایک اچھا آغاز ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

اس سے پہلے کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کے عالمی مشن سے وابستہ ماہرین نے بتایا تھا کہ شام میں کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اتوار کو پہلے روز ان ہتھیاروں کے مختلف اجزا اور آلات کو تلف کیا گیا جب کہ یہ عمل آنے والے دنوں میں جاری رہے گا۔

ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی ’آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز‘ یا او پی سی ڈبلیو کے ماہرین کر رہے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شام میں 20 مقامات پر کیمیائی ہتھیار رکھے گئے ہیں اور یہ نہیں بتایا کہ ہتھیار کس علاقے میں تباہ کیے گئے۔ ماہرین کا یہ ضرور کہنا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی تباہی کی ویڈیوز جاری کریں گے۔

اقوامِ متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کے مشترکہ وفد کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’ہتھیاروں کی تلفی کے عمل کا پہلا دن مکمل ہوا اور میزائلوں کے وار ہیڈز، بموں اور کیمیائی مواد کی آمیزش کرنے والے یونٹس کو ختم کیا گیا۔ یہ کام کل اور آنے والوں دنوں میں جاری رہے گا۔‘

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل آسان نہیں ہوگا کیونکہ کچھ ہتھیار ایسے مقامات پر ہیں جہاں لڑائی ہو رہی ہے۔

یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہیگ میں قائم او پی سی ڈبلیو کو کسی بھی ملک میں جاری کشیدگی کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی نگرانی کے لیے کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ او پی سی ڈبلیو نامی یہ مشن شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔

ہیگ میں ہماری نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے ٹیم متعلقہ جگہ پر پہنچی ہے اور وہاں پر کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عمل شروع کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشن کتنی جلدی اس کام کو نمٹانا چاہتا ہے۔

اس سے پہلے مشن کے حکام کا کہنا تھا کہ اس عمل کے ابتدائی مرحلے میں وہ کیمیائی مادوں کی آمیزش کرنے اور انہیں ہتھیاروں میں بھرنے کے آلات کے ساتھ ساتھ کچھ کارآمد ہتھیار بھی تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

خیال ہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔

شام میں جاری تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں