فلسطین: کیا غزہ میں حماس دباؤ میں ہے؟

Image caption غزہ میں یہ سرنگیں سرحد پار سے سامان سمگل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں

مصر کے ساتھ سرحد پر غزہ کی پٹی میں قائم سفید خیمے خستہ حال اور خالی پڑے ہیں۔ ان میں کام کرنے والے ہزاروں سمگلروں میں سے زیادہ تر غائب ہیں۔

مصر کے ساتھ سرحد پر ایک نئی سرنگ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور چار فلسطینی گھوڑوں اور کرین کی مدد سے گندگی سے بھری بالٹیاں اوپر کھینچ رہے ہیں۔

قریب ہی ابو احمد اور ان کے ملازمین اپنی سرنگ کی مرمت کر رہے ہیں۔ اب تک وہ ایک منافع بخش تجارت کا حصہ تھے اور مصر سے تعمیراتی سامان لے کر آتے تھے۔ لیکن اب ان کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔

ابو احمد بتاتے ہیں کہ ’95 فیصد سرنگیں بند ہیں۔ مصریوں نے میری سرنگ تباہ کر کے اس میں پانی بھر دیا ہے۔‘

حال ہی میں مصری فوج نے ایک بلڈوزر کی مدد سے ایک گھر کو مسمار کر دیا ہے اور زیتون کے درخت بھی گرا دیے ہیں کیوں کہ ان کی وجہ سے سرنگوں کے داخلی راستے چھپے ہوئے تھے۔ ان سرنگوں کو پانی سے بھر دیا گیا ہے یا گند ڈال کر مسدود کر دیا گیا ہے۔

انتخابات میں کامیابی کے ایک سال بعد 2007 میں حماس کے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہاں سرنگوں کا جال بچھ گیا تھا۔

اسرائیل حماس کو دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے۔ اسرائیل اور مصر نے غزہ کا محاصرہ سخت کر دیا تھا۔

سرنگوں کے ذریعے سمگلنگ پابندیوں سے بچنے کا ایک طریقہ تھا۔ غزہ کے 17 لاکھ فلسطینیوں کا سمگل ہونے والی روز مرہ استعمال کی اشیا اور مصر کے سستے ایندھن پر انحصار تھا۔

تاہم یہ زیرِ زمین راستے اسلحے اور مسلح جنگجوؤں کو سرحد پار لے جانے کے لیے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ مصری اہلکار ان سرنگوں کو سکیورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

غزہ کے ساتھ سرحد پر واقع مصر کے علاقے سینا میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے گذشتہ تین ماہ میں اسلامی شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

Image caption حماس کے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یہاں کئی سرنگوں کا نیٹ ورک تعمیر کیا گیا تھا

قاہرہ میں نئی حکومت کا الزام ہے کہ صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے ساتھ نظریاتی تعلق رکھنے والی تنظیم حماس ان شدت پسندوں کی مدد کر رہی ہے۔ حماس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

تاہم مصر کے مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق مصری فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر سینا میں اس کے دستوں کے خلاف حملے نہ رکے تو وہ غزہ میں فوجی مداخلت کریں گے۔

اس تنازعے میں اضافے کی وجہ سے رفاہ کراسنگ عبور کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود کر دی گئی ہے جس وجہ سے غزہ سے نکلنے والے ہزاروں افراد پھنس کر رہ گئے ہیں۔

یوسف ہیلو کو آکسفرڈ یونیورسٹی جانے کے لیے صرف غزہ کی سرحد عبور کرنے میں دو ہفتے انتظار کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم غزہ میں رہتے ہیں اور عام لوگ ہیں۔ ہم حماس یا کسی اور جماعت کی غلطیوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر سزا کیوں دی جا رہی ہے؟‘

گذشتہ ماہ اسرائیل نے برآمدات پر پابندیوں میں نرمی کی تھی اور پرائیویٹ سیکٹر کے لیے تعمیرات کا سامان غزہ لے جانے کی اجازت دی تھی۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ ایسا فلسطینی صدر محمود عباس کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ محمود عباس حماس کے سیاسی حریف ہیں اور ان کی جماعت فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے میں برسر اقتدار ہے۔

محمود عباس نے حال ہی میں اسرائیل کے ساتھ امن بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا تھا لیکن غزہ میں حماس کی حکومت اس کے حق میں نہیں ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے سینئر تجزیہ کار نیتھن تھرل کا کہنا ہے کہ اسلامی گروہ کو شروع میں عرب دنیا میں آنے والے انقلاب سے بہت امیدیں وابستہ تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’حماس دیکھ رہا تھا کہ خطے میں جو ہو رہا ہے وہ ان کے حق میں ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اسلامی تحریکیں اور اخوان المسلمین سے وابستہ تحریکیں ابھر رہی ہیں تو ان کے لیے بھی ڈرامائی طور پر صورتحال بدل جائے گی۔ ‘

Image caption جماس کے عسکری ونگ القاسم بریگیڈ کی جانب سے کی جانے والی پریڈ کو طاقت کی نمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

’انہیں ناصرف مغرب نے بلکہ عرب دنیا نے بھی تنہا چھوڑ دیا تھا اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ ایک نئے دور کی صبح ہے جس میں انہیں تسلیم کیا جائے گا اور وہ فلسطینی قومی تحریک کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیں گے۔ لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ہے۔‘

غزہ کے نائب وزیر خارجہ غازی حامد اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حماس فی الحال ’مشکل‘ میں ہے لیکن اس نے سات سال قبل انتخابات میں کامیابی کے بعد کئی چیلنجوں پر قابو پا لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ہر وقت مشکل مرحلوں سے گزرتے رہتے ہیں۔ ہم نے سیاسی تنہائی، اقتصادی بائیکاٹ، غزہ کے خلاف جنگ کا سامنا کیا لیکن یہ وقت کامیابی سے گزر گیا۔‘

’مصر کی صورتِ حال ہمارے لیے آسان نہیں ہے۔ ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ بعض لوگوں نے ہمیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن جلد ہی ہم اس بحران سے نکل آئیں گے۔ ‘

یہ واضح ہے کہ حماس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پیسے کا ہے جس نے 40 ہزار سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنی ہیں۔ اس سے قبل وہ سرنگوں پر ٹیکس کے ذریعے بہت بڑی رقم کما رہا تھا۔

ایک حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ ایران کے ساتھ رشتوں کو دبارہ استوار کیا جائے جو پہلے بھی اس گروپ کے ساتھ مالی اور عسکری تعاون کرتا رہا ہے۔ ان رشتوں میں اس وقت خرابی پیدا ہوئی جب حماس نے تہران کے اتحادی ملک شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے سنی گروہوں کی حمایت کی تھی۔

تاہم حماس کے عسکری دھڑے القاسم بریگیڈ نے حالیہ دباؤ پر اپنے طور پر ردعمل کا اظہار بھی کیا ہے۔

حال ہی میں چہروں پر ماسک پہنے جنگجوؤں نے بندوقیں اور راکٹ اٹھائے پریڈ میں حصہ لیا جس کا بظاہر مقصد طاقت کی نمائش تھا اور یہ یاد دلانا تھا کہ غزہ پر حماس کی گرفت اب بھی مضبوط ہے۔

اسی بارے میں