برطانیہ:’اسلامی انتہاپسند عوام کو جائز ہدف سمجھتے ہیں‘

Image caption اینڈریو پارکر کو رواں برس کے اوائل میں ایم آئی فائیو کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا

برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر جنرل نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں موجود ہزاروں اسلامی انتہاپسند برطانوی عوام کو اپنا جائز ہدف سمجھتے ہیں۔

اینڈریو پارکر نے یہ بات عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے عوامی خطاب میں کہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور پاکستان اور یمن میں اس سے وابستہ افراد برطانیہ کے لیے فوری اور براہِ راست خطرہ ہیں۔

وائٹ ہال میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں اپنے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ سکیورٹی اداروں کو بھی ان مواصلاتی ذرائع تک رسائی ہونی چاہیے جو کہ اب دہشتگرد استعمال کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو درپیش خطرات بہت متنوع ہوتے جا رہے ہیں تاہم ’یہ معاملہ برقرار ہے کہ یہاں کئی ہزار اسلامی انتہاپسند ہیں جو برطانوی عوام کو اپنا جائز ہدف سمجھتے ہیں۔‘

اینڈریو پارکر نے کہا کہ کسی فرد کو جاننے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں:’ہمارے ریڈار پر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً ہم باریک بینی سے آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ القاعدہ اور جنوبی ایشیا اور جزیرہ نما عرب میں اس کے حمایتی اور ساتھیوں سے ’برطانیہ کو فوری اور براہِ راست خطرات لاحق ہیں۔‘

ایم آئی فائیو کے سربراہ نے شام میں جاری تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ شام میں جاری لڑائی میں شرکت کے لیے برطانیہ سے لوگوں کی روانگی کے رجحان پر فکرمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ مغربی حکومتوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ برطانیہ میں مقیم جہادی ایک دن شامی محاذِ جنگ سے واپس آئیں گے اور پھر اپنی صلاحیتوں کا استعمال یہاں کے عوام پر کریں گے۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں دہشت گردوں کو اب بہترین مواصلاتی سہولیات میسر ہیں جن میں ’ای میل، انٹرنیٹ ٹیلیفون، ان گیم کمیونیکیشن، سوشل نیٹ ورکنگ، گمنام چیٹ رومز اور موبائل ایپس جیسی سہولیات میسر ہیں۔‘

اینڈریو پارکر نے کہا کہ یہ ایم آئی فائیو اور جی سی ایچ کیو کے لیے انتہائی اہم ہے کہ وہ ان تمام ذرائع سے معلومات کے حصول کی صلاحیت حاصل کرے۔

اپنے خطاب کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دہشت گردی کا خطرہ ماضی کے مقابلے میں بڑھا تو نہیں لیکن اب یہ ’زیادہ پیچیدہ، زیادہ متنوع ہے اور اس کے بارے میں پیشنگوئی کرنا مشکل ہے۔‘

اسی بارے میں