اٹلی: تارکین وطن کی ایک اور کشتی غرقاب، 34 ہلاک

Image caption گزشتہ جمعہ کو ہی اطالوی ساحل کے قریب بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی کے حادثے میں 300 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے

بحیرۂ روم میں اٹلی اور مالٹا کی سمندری حدود کے قریب تارکین وطن کی ایک کشتی کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے۔

ادھر مالٹا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ افریقہ کے نزدیک بحیرۂ روم کا حصہ ایک قبرستان کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

تارکین وطن کی کشتی غرقاب: تصاویر میں

آسٹریلیا پہنچنے کے لیے زندگیاں داؤ پر: خصوصی رپورٹ

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ڈوبنے والی کشتی پر شامی اور فلسطینی باشندے سوار تھے۔

حکام کے خیال میں اس کشتی کی منزل یورپ تھی اور یہ اطالوی جزیرے لمپیدوزا سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈوبی۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی اس جزیرے کے نزدیک تارکینِ وطن کی کشتی کے حادثے میں 359 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنیچر کو جاری امدادی کارروائیوں میں مالٹا اور اٹلی کی امدادی کشتیاں اور ہیلی کاپٹر شریک رہے اور غوطہ خوروں نے متاثرہ افراد کو نکال کر رہے ہیں۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک جوڑے کے مطابق کشتی الٹنے کے بعد وہ ایک گھنٹے تک پانی میں موجود رہے اور پھر انہیں بچا لیا گیا۔

مالٹا کی بحریہ کے مطابق کشتی پر سوار تارکین وطن قریب سے گزرنے والے ایک جہاز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے ایک جانب جمع ہو گئے اور اس کے نتیجے میں کشتی الٹ ہو گی۔

مالٹا کے وزیراعظم جوزف ماسکت کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق تاحال 203 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور ان میں سے 147 افراد کو مالٹا اور 56 کو اطالوی امدادی ٹیموں نے بچایا۔

اطلاعات کے مطابق مالٹا کی فضائیہ کو پہلے حادثے کا پتا چلا اور اس کے بعد اٹلی سے مدد مانگی گئی۔ گزشتہ حادثے کے بعد سے مالٹا اور اٹلی کے سمندری محافظ اس سمندری علاقے میں موجود تھے۔

ہزاروں کی تعداد میں تارکینِ وطن شمالی افریقہ سے اس خطرناک سمندری راستے سے سیسلی اور اٹلی کے دیگر جزائر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش کے دوران حادثات عام ہیں لیکن گذشتہ ہفتے لمپیدوزا جزیرے کے نزدیک کشتی کے ڈوبنے کا جو حادثہ ہوا وہ تاریخ میں سب سے تباہ کن واقعہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق 1990 کی دہائی سے اب تک بحریۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی خواہش میں اندازاً 20 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں