شامی باغیوں نے شہری قتل کیے ہیں: ہیومن رائٹس واچ

Image caption شام کے ساحلی علاقے لتاکیا میں اگست میں جو حملہ ہوا تھا اس میں قریب 20 باغی گروہ شامل تھے

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اگست میں فوجی کارروائیوں کے دوران شام کے باغیوں نے کم از کم 190 شہریوں کو قتل اور دو سو سے زیادہ افراد کو یرغمال بنایا تھا۔

نیویارک میں قائم تنظیم نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ہلاکتوں کے واقعات ساحلی شہر لاذقیہ کے قریب حکومت کے حامی علاوی گاؤں میں پیش آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تفتیش سے یہ واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

واضح رہے کہ شام میں دو سال سے جاری بغاوت کے دوران باغیوں اور فوجیوں پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

حکومت مخالف باغیوں میں مختلف قسم کے گروہ سرگرم ہیں ان سے بعض کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ سے منسلک ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جائے وقوعہ پر جانچ کی اور 35 سے زیادہ افراد کا انٹرویو لیا۔ ان میں طرفین کے جنگجو بھی شامل تھے جو اس آپریشن میں زندہ بچ گئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ آپریشن کے پہلے دن شہریوں کو قتل کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ’عینی شاہدین نے بتایا کہ کس طرح باغیوں نے عام شہریوں کو قتل کیا اور ان پر گولیاں چلائیں۔ بعض اوقات پورے کے پورے کنبے کو مارنے کی کوشش کی گئی۔‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں باغیوں کے تقریباً 20 گروہوں نے حصہ لیا تھا جن میں سے پانچ شہریوں پر حملہ کرنے میں شامل تھے اور یہ پانچوں گروپ آزاد شامی فوج کا حصہ نہیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ دو گروپ عراق و شام کی اسلامی مملکت اور جیش المہاجرین والانصار نے ابھی تک لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

دوسرے دن حکومت نے جوابی حملہ کیا اور اگست 18 کو اس گاؤں پر دوبارہ قبضہ کر کیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر جو سٹورک کا کہنا ہے کہ ’یہ کسی برے جنگجو کے عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ علوی گاؤں پر یہ حملہ منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا تھا۔‘

عینی شاہدین کے بیانات اور ہسپتال کے ریکارڈوں کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہےکہ 190 میں سے کم از کم 67 افراد غیر قانونی طور پر قتل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں