امریکہ:’شٹ ڈاؤن‘ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پھر ناکام

Image caption ایک جائزے کے مطابق تقریباً 72 فیصد افراد ہیلتھ کیئر بل کی وجہ سے ہونے والے اس ’شٹ ڈاؤن‘ کے حق میں نہیں

امریکہ میں جاری جزوی طور پر ’حکومتی شٹ ڈاؤن‘ ختم کرنے کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد یہ بحث اب سینٹ میں منتقل کر دی گئی ہے۔

ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے کئی ہفتوں کے بعد پہلی بار مذاکرات شروع کیے تھے تاہم ان میں کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا۔

امریکہ: شٹ ڈاؤن جاری، مذاکرات ناکام

شٹ ڈاؤن کی وجہ سے اوباما کا دورۂ ایشیا منسوخ

امریکہ شٹ ڈاؤن تصاویر میں

امریکہ میں وفاقی حکومت کی سرگرمیاں یکم اکتوبر کو اس وقت جزوی طور پر معطل ہو گئی تھیں جب حزبِ اختلاف کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان سے آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کچھ وفاقی محکموں کو کام بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان صدر اوباما کے ’ہیلتھ کیئر پلان‘ کے حوالے سے اختلاف ہے اور ریپبلکن پارٹی اس پلان کے لیے بجٹ منظور کرنے کے لیے راضی نہیں ہیں۔

امریکہ کو شاید مستقبل قریب میں ایک اور بحران کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ جمعرات کو امریکہ کا قرض مقررہ حد تک پہنچ جائے گا اور اگر قرض لینے کی حد نہیں بڑھائی گئی تو سترہ اکتوبر کو امریکی حکومت کے پاس اپنے اخراجات کے لیے رقم ختم ہو جائے گی۔

امریکی صدر براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ ملک میں وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کے خاتمے کے لیے حزبِ اختلاف کی جانب سے ہیلتھ کیئر کے قانون میں تبدیلی کی شرط تسلیم نہیں کی جا سکتی۔

سنیچر کو ڈیمکریٹک پارٹی کے سینیٹر ڈک ڈربن نے بتایا کہ حالیہ مذاکرات کا مقصد پیر کے روز منڈیوں کے کھلنے سے پہلے، قرض کی حد میں اضافہ کرنے کے معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز ہونے والی دونوں پارٹیوں کی قیادت کے درمیان ملاقات، جولائی کے مہینے کے بعد وہ پہلا موقع ہے جس میں دونوں پارٹیوں کی سیاسی قیادت آمنے سامنے تھی۔

سینیٹر ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ ہماری ملاقات مفید تھی تاہم یہ بالکل ابتدائی مراحل ہیں۔

Image caption سینیٹر ہیری ریڈ کا کہنا تھا کہ ہماری ملاقات مفید تھی تاہم یہ بالکل ابتدائی مراحل ہیں

ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ میں اکثریت ہے تاہم وہ بجٹ منظور کروانے کے لیے درکار حمایت جمع نہیں کر سکے ہیں۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس اور ایوانِ نمائندگان کے ریپلیکن اراکین کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے ملک میں بجٹ کی عدم منظوری کی وجہ سے وفاقی محکموں کی بندش یا ’شٹ ڈاؤن‘ کی وجہ سے ایشیائی ممالک کا دورہ مکمل طور پر منسوخ کر دیا تھا۔

یہ دورہ منسوخ ہونے کی وجہ سے صدر اوباما انڈونیشیا میں ایشیا اور بحرالکاہل کے ممکالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ’اے پیک‘ کے اجلاس سمیت دو سربراہی اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکے۔

ہیلتھ کیئر سے متعلق اس قانون کے زیادہ تر حصوں پر اس ہفتے کو عمل شروع ہو گیا تھا۔اس قانون کی توثیق ملک کے سپریم کورٹ نے بھی کی تھی اور یہ 2012 کے صدارتی انتخاب میں ایک اہم موضوع رہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جان بوہنر ایوانِ نمائندگان کو ہیلتھ کیئر قانون میں تبدیلی کے مالیاتی بل پر ووٹنگ کی اجازت دے کر وفاقی محکموں کی بندش کو ختم کر سکتے تھے کیونکہ ڈیموکریٹس اور اعتدال پسند ریپبلکن اس بل کو پاس کر لیتے۔

امریکہ میں وفاقی محکموں کی بندش کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ افراد کو بغیر تنخواہ رخصت پر جانا پڑا اور اس بات کی بھی ضمانت نہیں کہ جب یہ ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے تو انہیں اس عرصے کی تنخواہ ملے گی یا نہیں۔

کوئینی پیک یونیورسٹی کے جائزے کے مطابق تقریباً 72 فیصد افراد ہیلتھ کیئر بل کی وجہ سے ہونے والے اس ’شٹ ڈاؤن‘ کے حق میں نہیں۔

اسی بارے میں