ایمیزون: جنسی تشدد کے موضوع پر لکھی کتابیں ہٹا لی گئیں

امیزون پر جنسی زیادتی پر مبنی کتابیں
Image caption امیزون پر جنسی زیادتی پر مبنی کتابوں کو ہٹا لیا گیا

آن لائن خریداری کی ویب سائٹ ایمیزوں نے ایک رپورٹ کے بعد اپنے کنڈل اسٹور سے تشدد کے موضوع پر مبنی کئی کتابیں ہٹا دی ہیں۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کنڈل پر ریپ اور جنسی موضوعات پر نامناسب کتابیں موجود ہیں۔ ان کتابوں کی نشاندہی ’دا کرنل‘ نامی ایک ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ نے کی۔

ایمازون پر ’ریپ‘ ٹی شرٹ کی فروخت

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ایمیزون کے سٹور میں روز مرّہ استعمال ہونے والے الفاظ کو اگر سرچ کیا جائے تو ویب سائٹ بغیر صارفین کی عمر کا تعیّن کیے خود کار طریقے سے انہیں غیر مناسب کتابوں تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔

ایمیزون نے اس مسئلے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا سوائے اس بات کی تصدیق کرنے کے کہ دا کرنل نے جن کتابوں کی نشاندہی کی ہے انہیں ایمیزوں نے ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔

یہ کتابیں ویب سائٹ کے اُس حصے میں موجود تھیں جہاں مصنف خود اپنا کام شائع کر سکتے ہیں اوراگر ان کی کتابیں فروخت ہو جائیں تو ایمیزون کو معاوضے میں سے کچھ حصہ موصول ہوتا ہے۔

ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ویب سائٹ پر حفاظتی تدابیر کے بغیر اس قسم کی نامناسب کتابیں شائع کرنے سے ایمیزون جیسی کمپنیوں پر فرد جرم عائد ہو سکتی ہے۔

چیئرمین انٹرنیٹ واچ فاوٹزیشن مارک سٹیون کا کہنا ہے کہ ’ایمیزوں کے ڈائریکٹرز کے لیے اس بات کا جواب دینا بہت مشکل ہے کہ وہ فُحش نِگاری سے معاوضہ کیوں کما رہے ہے جبکہ یہ بظاہر ایک جرم ہے؟‘

جولائی میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں کسی کو بھی ایسا فُحش مواد رکھنے یا شائع کرنے کی اجازت نہ ہو جس میں ریپ کا عنصر شامل ہو اور اس سلسلے میں وہ اسے غیر قانونی قرار دینا چاہتے ہیں۔

مگر ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ اقدام کتابوں پر کس طرح اثر انداز ہو گا جو فی الحال ابسین پبلیکیشن ایکٹ یا او پی اے کے کنٹرول میں ہیں۔

ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریپ ایک سنگین جرم ہے جس کا جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی اثر ہوتا ہے اور اس کو لطف اور تفریح کے لیے لکھنا ایک اور ظلم ہے‘۔

چلڈرن چیریٹی کولیشن آن انٹرنیٹ سیکیورٹی کے سیکرڑی جان کار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر والدین کو یہ معلوم ہو جائے کہ انٹرنیٹ پر کیا کچھ دیکھا جا سکتا ہے تو وہ حیران ہو جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ کم از کم بالغ لوگوں کے لیے موجود مواد کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیئے جو ہر عمر کے صارفین کو میّسر نہیں ہونا چاہیے‘۔

اسی بارے میں