ڈرون حملوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہورہا ہے: ملالہ

خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما سے ملاقات کی ہے۔

براک اوباما نے ’خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے متاثرکن کام کرنے پر‘ سولہ سالہ ملالہ کا شکریہ ادا کیا۔

اوباما کی پندرہ سالہ بیٹی مالیا نے بھی جمعہ کو ہونے والی اس ملاقات میں شرکت کی۔

ملالہ یوسفزئی: کہانی محبتوں کی۔۔۔

’کیا ہوا اگر ملالہ کو اس بار نوبیل امن انعام نہیں ملا‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ملالہ یوسفزئی نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا ’میں نے پاکستان اور افغانستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے امریکی تعاون پر اور شام کے بے گھر افراد کی مدد کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کے بارے میں کہا کہ اس سے شدت پسندی مزید بڑھ رہی ہے۔ ان ڈرون حملوں میں بے گناہ افراد مارے جاتے ہیں جس کے باعث پاکستانی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی تمام تر توجہ تعلیم کی جانب مبذول کریں تو اس سے بہت فرق پڑے گا۔‘

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ نے خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے کے حوالے سے ملالہ کے حوصلے کی داد دی ہے۔

خاتونِ اول نے ایک بیان میں کہا کہ ’بچیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کرنا ایک بہترین کام ہے نہ صرف ہمارے بیٹیوں اور پوتیوں کے لیے بلکہ ان کے خاندانوں، برادری اور ممالک کے لیے بھی۔‘

جمعرات کو ملالہ یوسفزئی نے یورپی یونین کا سخاروف ہیومن رائٹس ایوارڈ جیت بھی لیا تھا۔اگرچہ نوبیل امن انعام کے لیے بھی ان کا نام لیا جا رہا تھا جو شام میں ہتھیاروں کو تلف کرنے والے کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کو دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وادی سوات سے تعلق رکھنے والی ملالہ یوسفزئی کو خواتین کے لیے تعلیم عام کرنے کی کوششوں پر طالبان نے اکتوبر 2012 میں نشانہ بنایا تھا۔اس حملے میں زخمی ہونے کے بعد ان کا ابتدائی علاج پاکستان میں کیا گیا اور بعد میں انہیں برطانیہ منتقل کردیا گیا جہاں اب وہ زیرِ تعلیم ہیں۔

ملالہ یوسفزئی نے 2009 میں سوات سے بی بی سی اردو کے لیے اس وقت ڈائری لکھی تھی جب یہ علاقہ طالبان کے زیرِ اثر تھا۔ اس وقت تو انہوں نے یہ ڈائری ایک فرضی نام سے تحریر کی تھی تاہم بعد میں انہوں نے منظرِ عام پر آنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستانی فوج نے جب 2009 میں سوات سے طالبان کو نکال دیا تو لوگ بین الاقوامی سطح پر ملالہ کو جاننے لگے۔

اسی بارے میں