شام:باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں تک رسائی میں مشکلات

Image caption او پی سی ڈبلیو کو گذشہ ہفتے نوبیل امن انعام سے بھی نوازا گیا ہے

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی نگرانی کرنے والے عالمی مشن کے سربراہ نے ملک میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں تک رسائی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کے ڈائریکٹر جنرل احمد اوزومكو نے شامی حکومت اور باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے مشن کی حمایت کریں۔

او پی سی ڈبلیو کو گذشہ ہفتے نوبیل امن انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔احمد اوزومكو نے بی بی سی کو بتایا کہ نوبیل امن انعام ملنے سے شام میں ان کے کام میں مدد دے گا۔

شام پیر کو کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن میں بھی شامل ہو رہا ہے۔

’شامی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل شروع‘

شامی حکومت تعریف کی حقدار ہے: جان کیری

احمد اوزومکو نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت مشن کے ماہرین کے ساتھ تعاون اور ان کے کام مدد کرتی رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے مشن نے کیمیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیس میں سے پانچ کارخانوں تک پہلے ہی رسائی حاصل کر لی ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ شام کی دستاویزات میں ظاہر کیے گئے فہرست میں کیمیائی ہتھیاروں کے بعض ذخائر باغیوں کے زیرِ اثر علاقے میں ہیں۔

او پی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ’یہ علاقے روزانہ مخلتف ہاتھوں میں ہوتے ہیں اس لیے ہم شام میں طرفین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مشن کی حمایت کریں اور اس کے کام میں تعاون کریں نہ کہ اس کو مشکل بنائیں۔ یہ کام پہلے ہی کافی مشکل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں واقع ایک ذخیرے کو پہلے ہی تلف کیا گیا ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم اس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔‘

احمد اوزومكو نے حال ہی میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

او پی سی ڈبلیو کا مشن شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔

گذشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شامی ہتھیار تلف کر دیے جائیں۔

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد امریکہ اور روس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں پیش کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے قبل روس نے شامی حکام کو کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

شام میں جاری تنازع کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب21 شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں