امریکہ: سینیٹرز قرضے کی حد بڑھانے پر مذاکرات سے پْرامید

Image caption امریکی سرکاری اداروں کا جزوری ’شٹ ڈاؤن‘ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے

امریکی سینیٹ کے رہنماؤں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے قرض کی حد میں اضافے پر مذاکرات کے بعد حل کی طرف گامزن ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ کے سینیئر رہنما نے اپنے ریپبلکن ہم منصب سے بات چیت کے بعد کہا کہ ’زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔‘

کانگریس کے ایک ذرائع نے بتایا کہ وہ حکومت کے بعض خدمات کو جزوی طور پر بحال کرنے پر سمجھوتہ کرنے والے ہیں۔

اس سے پہلے قرض کی حد میں اضافے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دیے گئے تھے تاکہ قانون سازوں کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔ یہ حد اس ہفتے ختم ہو رہی ہے۔

شٹ ڈاؤن میں خاتمے کے لیے مذاکرات پھر ناکام

شٹ ڈاؤن جاری، ’صحت کے قانون پر سمجھوتا نہیں ہو گا‘

شٹ ڈاؤن تصاویر میں

ڈیموکریٹ اور رپبلکن پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز ’شٹ ڈاؤن‘ کے معاملے پر اختلافات کا شکار ہیں۔ امریکہ کے متعدد سرکاری اداروں کا جزوی شٹ ڈاؤن اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے۔تاہم اب رہنما پرامید نظر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق کانگریس کے رہنما ایک ایسے معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت حکومت کو 15 جنوری تک رقم فراہم کی جا سکے، اور قرض کی حد کو فروری کے وسط تک بڑھا دیا جائے۔

سینیٹ میں اکثریتی رہنما ہیری ریڈ نے پیر کی شام کہا کہ’ہم نے زبردست پیش رفت کی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ’ہم اچھی قسمت کی امید کرتے ہیں۔ کل ایک روشن دن ہوگا تاہم ہم ابھی تک وہاں پہنچے نہیں ہیں۔‘

رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے اقلیتی رہنما مچ مکانل بھی مذاکرت کے بعد پرامید نظر آئے۔ انھوں نے بھی کہا کہ مذاکرات میں ’کافی پیش رفت ہوئی ہے۔‘

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ اس کے علاوہ ایک اور گروپ کے درمیان بھی کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے، جس میں رپبلکن سینیٹر اور دونوں جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔

علاوہ ازیں ریپبلکنز نے منگل کی صبح اپنے سینیٹرز اور دارالاعوام کے ارکین کا بند کمرہ اجلاس بلایا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ امریکہ اگر قرض ادا کرنے میں ناکام ہو گیا تو اس سے عالمی مالیاتی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

جمعرات تک امریکہ کو لازمی طور پر قرض کی حد میں اضافہ کرنا ہو گا تاکہ وہ اپنے واجب الادا بل ادا کر سکے۔ یہ حد اس وقت 167 کھرب ڈالر ہے۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پیر کی سہ پہر ہونے والے مذاکرات ملتوی کر دیے گئے تاکہ سینیٹ کے رہنماؤں کو حکومت دوبارہ کھولنے اور قرض کی حد میں اضافہ کرنے کا کوئی حل نکالنے کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔

مذاکرات کی اگلی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

صدر اوباما نے بھی تنبیہ کی ہے: ’اگر اس ہفتے ہم نے خاطر خواہ پیش رفت نہ کی، اور اگر رپبلکن پارٹی نے ملک کی بہتری کے خاطر اپنے جماعتی معاملات کو بالائے طاق نہ رکھا تو اس بات کا بہت امکان ہے کہ ہم نادہندہ ہو جائیں۔‘

انھوں نے کہا تھا: ’نادہندگی سے ہماری معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔‘

وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما اور نائب صدر جو بائڈن کے علاوہ سینیٹ میں اکثریتی رہنما ہیری ریڈ، رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے اقلیتی رہنما مچ مکانل، رپبلکن پارٹی کے ایوانِ نمائندگان میں سپیکر جان بینر اور ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما نینسی پیلوسی حصہ لینے والے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جمعرات کی حتمی مہلت سے قبل آخری امید ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس اور رپبلکن پارٹی کی اکثریت والے ایوانِ نمائندگان کے درمیان مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں