قرض کی حد کے بحران کے حل پر معاہدہ

Image caption امریکی قانون سازوں کو جمعرات تک لازماً 16 کھرب 70 ارب ڈالر کی موجودہ حد میں اضافہ کرنا ہے

امریکہ میں سینیٹ کے رہنما مجموعی قرضے کی حد بڑھانے اور حکومتی اداروں کو بحال کرنے کے معاملے پر معاہدے پر پہنچ گئے ہیں جو بدھ کے روز سینیٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

رپبلکنز کی اکثریت پر مشتمل ایوانِ نمائندگان میں اس معاہدے کو رائے شماری کے لیے پہلے پیش کیا جائے گا اور خیال ہے کہ یہ ڈیموکریٹ ووٹوں کی مدد سے یہ آسانی سے منظور ہو جائے گا۔

اس کے بعد یہ معاہدہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد صدر اوباما اس کی توثیق کریں گے اور یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

امریکہ میں حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرض کی حد میں اضافے کی حتمی مہلت سترہ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔ ملک کو نادہندگی کے خطرے سے بچانے کے لیے امریکی سینیٹ کو قرضے لینے کی مجموعی حد کو بڑھانا ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق حکومتی جماعت ڈیموکریٹ اکثریت والے امریکی ایوانِ بالا میں حکومت اور حزبِ اختلاف کے قائدین رات بھر سمجھوتے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔

سینیٹر قرضے کی حد بڑھانے کے لیے پرامید

’امریکی بحران عالمی کساد بازاری شروع کر سکتا ہے‘

’قرض کی حد پر عدم اتفاق دنیا کے لیے تباہ کن ہے‘

سینیٹ میں منصوبے پر جو بات چیت ہو رہی ہے اس میں قرض کی حد سات فروری تک بڑھانے اور حکومت چلانے کے لیے جنوری کے وسط تک فنڈز کی فراہمی کی بات کی گئی ہے۔

ادھر کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فِچ نے امریکہ کی ٹرپل اے معاشی درجہ بندی میں ممکنہ کمی کے لیے اس پر نظرِ ثانی کا اعلان کیا ہے۔

امریکی قانون سازوں کو جمعرات تک لازمی طور پر 167 کھرب ڈالر کی قرض کی موجودہ حد میں اضافہ کرنا ہے، ورنہ ملک کو نادہندگی کا خطرہ لاحق ہے اور اگر ایسا ہوا تو ماہرین کے مطابق اس کے عالمی معیشت پر انتہائی برے اثرات پڑیں گے اور دنیا ایک مرتبہ پھر کسادبازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔

فچ نے امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ پر نظرِ ثانی کا یہ فیصلہ اس وقت کیا جب امریکی ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوانِ نمائندگان کے رپبلکنز کی جانب سے قرض کی حد بڑھانے اور ملک میں جاری ’شٹ ڈاؤن‘ ختم کر کے وفاقی حکومت کا کام پوری طرح سے دوبارہ شروع کا منصوبہ رد کر دیا۔

وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدامت پسندوں کے ایک چھوٹے سے ٹولے کو خوش کرنے کی کوشش ہے، تاہم انھوں نے سینیٹ کے ایک متوازی دو جماعتی منصوبے کو سراہا ہے۔

اس کے چند ہی گھنٹے بعد ایوانِ نمائندگان کے رپبلکنز نے اپنے منصوبے میں ترمیم کر دی اور اسے رائے شماری کے لیے پیش کرنا چاہا، لیکن بعد میں رائے شماری بھی منسوخ کر دی گئی۔

ملک کی کریڈٹ ریٹنگ پر نظرِ ثانی کے اعلان پر امریکی وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے کہا: ’فچ کے اعلان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس کو معیشت کے سر پر نادہندگی کی لٹکتی ہوئی تلوار سے نجات پانے کے لیے کس قدر تیزی سے حرکت میں آنا ہو گا۔‘

اگرچہ فچ نے توقع ظاہر کی ہے کہ قرض کی حد جلد ہی بڑھا دی جائے گی، لیکن اس نے کہا کہ ’سیاسی شعبدہ بازیوں‘ اور ’مالیاتی لچک میں کمی‘ کی وجہ سے امریکہ کی نادہندگی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس خبر کے بعد نیویارک کا سٹاک ایکس چینج 133 پوائنٹ گر گیا۔

اس سے قبل 2011 میں اسی قسم کے مالیاتی تعطل کے نتیجے میں ایک اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے امریکہ کی ریٹنگ ٹرپل اے سے گھٹا کر ڈبل اے کر دی تھی۔

بجٹ پر حالیہ محاذ آرائی دو ہفتے قبل شروع ہوئی تھی، جب قدامت پرست رپبلکن پارٹی نے حکومت جزوی طور پر بند کر دی تھی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ صدر اوباما ان کے نام سے منسوب ’اوباما کیئر‘ صحت کے قانون میں ترامیم کریں۔

تاہم بعد میں پارٹی پیچھے ہٹ گئی اور منگل کی صبح ایوانِ نمائندگان کے ارکان صحت کے قانون میں نسبتاً ہلکی تبدیلیوں کے خواہش مند تھے۔

لیکن وائٹ ہاؤس اور ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے فوری تنقید کے بعد انھوں نے اپنا منصوبہ بدل کر اس میں سے یہ تبدیلیاں بھی ہٹا دیں۔

اس نئے منصوبے سے حکومت 15 دسمبر تک کے لیے کھل جائے گی، اور قرض کی حد سات فروری تک بڑھا دی جائے گی۔ ایوان کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے منصوبے پر منگل کو رائے شماری کروائیں گے۔

تاہم ایک قواعدی کمیٹی نے وہ سماعت ہی موخر کر دی جس کے ذریعے یہ قانون ایوان تک پہنچ سکتا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس منصوبے کو قدامت پسند رپبلکن امیدواروں کی جانب سے اس قدر حمایت حاصل ہے کہ یہ ایوانِ زیریں سے پاس ہو سکے۔

منگل کی سہ پہر صدر اوباما نے اے بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ انھیں توقع ہے کہ قرض کی حد کا تعطل کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس اس کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا۔‘

وائٹ ہاؤس نے صحت کے قانون میں ترامیم ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ 2010 میں منظور ہونے کے بعد اسے سپریم کورٹ بھی اس کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے، اور اس کے علاوہ یہ 2012 کے صدارتی انتخابات کا بھی مرکزی نکتہ تھا، جسے صدر اوباما نے باآسانی جیت لیا تھا۔

اسی بارے میں