’گارڈیئن اخبار نے برطانوی سلامتی کو نقصان پہنچایا‘

Image caption ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ان کے مشیر نے گارڈیئن سے حساس ڈیٹا ضائع کرنے کی درخواست کی تھی

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ گارڈیئن اخبار کو معلوم ہے کہ اس نے سابق امریکی سکیورٹی اہل کار ایڈورڈ سنوڈن سے حاصل ہونے والا ڈیٹا شائع کر کے برطانوی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیرِ اعظم نے پارلیمان میں کہا کہ ’جو کچھ ہوا ہے اس نے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اخبار نے بعد میں ڈیٹا ضائع کر کے اپنا قصور تسلیم کر لیا تھا۔

تاہم گارڈیئن نے کہا ہے کہ اس نے ڈیٹا ضائع کرنے کی درخواست اس لیے قبول کی تھی کہ اس کے پاس اور کاپیاں موجود تھیں۔

کیمرون نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا: ’میرا خیال ہے کہ سادہ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہوا اس سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا ہے، اور بہت سے طریقوں سے خود گارڈیئن نے تسلیم کیا ہے کہ جب میرے ملکی سلامتی کے مشیر نے ان سے نرمی سے وہ فائلیں ضائع کرنے کو کہا تو انھوں نے فائلیں ضائع کر دیں۔

’اس لیے وہ جانتے تھے کہ وہ جوکر رہے ہیں وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔‘

وہ قدامت پسند رکنِ پارلیمان اور سابق وزیرِ دفاع لیام فاکس کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔

گارڈیئن کے مدیر ایلن رس برِجر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ ایم آئی 5 کی اس تنبیہ کے باوجود ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے مزید انکشافات چھاپنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ایسے انکشافات سے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔

رس برِجر نے اصرار کیا کہ اخبار سابق امریکی سکیورٹی ماہر کی جانب سے دی گئی معلومات چھاپنے میں حق بجانب ہے، اور اس سے ایک ضروری مکالمے میں مدد ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ’پارلیمان کی بعض پراسرار شخصیات‘ کی جانب سے مزید مواد کی اشاعت روکنے کے لیے قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ انھیں کہا گیا تھا کہ وہ یا تو ڈیٹا ضائع کر دیں یا ان کے حوالے کر دیں۔

انھوں نے اگست میں بی بی سی کو بتایا تھا: ’چونکہ ہمارے پاس اس کی نقلیں موجود تھیں اور ہم امریکہ سے اپنا کام جاری رکھ سکتے تھے، جہاں صحافیوں کے تحفظ کے بہتر قوانین موجود ہیں، اس لیے مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آئی کہ ہم وہ ڈیٹا حکومت کے حوالے کرنے کی بجائے کیوں نہ خود ضائع کر دیں۔‘

اسی بارے میں