افغان جنگ میں بہادری پر امریکی فوجی ولیم سوینسن کے لیے میڈل آف آنر

Image caption سوینسن چھٹے امریکی فوجی ہیں جنہیں اپنی زندگی میں ہی یہ اعزاز ملا ہے

افغانستان میں جنگ کے دوران جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر امریکی فوج کے ریٹائرڈ کپتان ولیم سوینسن کو ملک کا سب بڑا فوجی اعزاز میڈل آف آنر دیا گیا ہے۔

انہیں یہ اعزاز امریکی صدر براک اوباما نے منگل کی شام وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں دیا۔

ولیم سوینسن کو 2009 میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع وادی گنجگال میں طالبان سے جھڑپ کے دوران اپنی جان کی پروا کیے بغیر ساتھی فوجیوں کی جان بچانے اور ہلاک شدگان کی لاشیں واپس لانے کی کوشش پر اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

چھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں پانچ امریکی اور دس افغان فوجی اور ایک مترجم مارے گئے تھے۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ کیپٹن سوینسن کی نامزدگی کے کاغذات گم ہونے کی وجہ سے انہیں یہ میڈل دیے جانے میں دو برس کی تاخیر ہوئی۔

تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس تاخیر کی وجہ سوینسن کی جانب سے اس آپریشن میں فضائی مدد کی درخواستیں رد کرنے پر اپنے اعلیٰ افسران پر کھلے عام تنقید تھی۔

اس جھڑپ کے بعد ہونے والی تحقیقات میں امریکی فوج کے دو افسروں کے خلاف ’غیر موثر‘ ثابت ہونے اور ’انسانی جانوں کے نقصان میں براہِ راست شریک‘ ہونے کے الزام کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔

حال ہی میں ریلیز کی جانے والی ایک ویڈیو میں گنجگال میں ہونے والی جھڑپ کے دوران کیپٹن سوینسن کی کارکردگی کے کچھ مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس ویڈیو میں انہیں اپنے زخمی ساتھی کی خبرگیری کرتے دکھایا گیا ہے۔

میڈل آف آنر دیے جانے کی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے بھی اس ویڈیو کا ذکر کیا اور کہا کہ اگرچہ یہ اعزاز اب تک تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد کو دیا گیا ہے لیکن ’شاید یہ پہلا موقع ہے کہ ہم ان کی کارکردگی کا کچھ حصہ اپنی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ وہ(کیپٹن سوینسن) حفاطتی ہیلمٹ کے بغیر، بغیر کسی اوٹ کے دشمن کے سامنے کھڑا ایک شدید زخمی فوجی کی حفاظت کر رہا تھا۔‘

اعزاز حاصل کرنے کے بعد ایک مختصر بیان میں کیپٹن سوینسن نے کہا کہ ’یہ اعزاز ایک ٹیم نے حاصل کیا جو کہ بہترین افراد کی ٹیم تھی۔ یہ میڈل ان کی نمائندگی کرتا ہے، یہ ہماری نشانی ہے۔‘

سوینسن افغانستان یا عراق جنگ میں حصہ لینے والے چھٹے ایسے حیات سپاہی ہیں جنھیں امریکی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز ملا ہے۔ وہ 2011 میں فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد اب سیاٹل میں رہائش پذیر ہیں اور فی الحال بےروزگار ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان جارج رائٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نےدوبارہ فوج میں شمولیت کی درخواست بھی دی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں