نوجوانوں میں جنسی ایس ایم ایس کا بڑھتا رجحان

Image caption جنسی ایس ایم ایس ایک دوسرے کو بھیجنا نئی نسل کا مرغوب مشغلہ بنتا جا رہا ہے

دس میں سے چھ کم عمر نوجوانوں (ٹین ایجرز) کا کہنا ہے کہ ان سے جنسی تصاویر اور ویڈیو مانگے گئے ہیں۔ یہ بات ایک سروے سے معلوم ہوئی ہے جسے این ایس پی سی سی/چائلڈ لائن نے منعقد کروایا تھا۔

40 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ انھوں نے جنسی تصاویر یا ویڈیوز بنائی ہیں اور ایک چوتھائی نے کہا کہ انھوں نے انھیں دوسرے لوگوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجا ہے۔

سروے کے سربراہ پیٹر وینلیس نے کہا کہ ’سیکسٹنگ‘ (جنسی نوعیت کے ایس ایم ایس) کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا: ’ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکسٹنگ نوجوانوں کے باہمی تعلقات کا اہم پہلو بنتا جا رہا ہے۔

’یہ بات تقریباً عام بنتی جا رہی ہے کہ آپس میں جنسی تعلقات رکھنے والے نوجوان جوڑوں کے پاس ایک دوسرے کی عریاں تصاویر ہوں۔‘

سروے کے لیے این ایس پی سی سی اور چائلڈ لائن نے برطانیہ بھر سے 450 ٹین ایجروں کا سروے کیا۔

جن نوجوانوں نے کہا تھا کہ انھوں نے کسی کو تصویر یا ویڈیو بھیجی ہے، ان میں سے 58 فیصد نے کہا کہ انھوں نے یہ تصویر اپنے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ کو بھیجی ہے، لیکن ایک تہائی نے کہا کہ انھوں نے یہ تصویر کسی ایسے شخص کو آن لائن بھیجی ہے جس سے ان کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔

15 فیصد نے کہا کہ انھوں نے کسی اجنبی کو ایسا مواد بھیجا ہے۔

سروے میں حصہ لینے والوں میں سے نصف نے کہا کہ انھیں کوئی جنسی تصویر یا ویڈیو موصول ہوئی ہے، اور ایک تہائی نے کہا کہ انھیں کسی اجنبی نے ایسا مواد بھیجا ہے۔

برطانوی قانون کے تحت 16 برس کی عمر میں جنسی تعلقات کرنا جائز ہے، لیکن 18 برس سے کم عمر نوجوانوں کی ’غیر اخلاقی‘ تصاویر لینا، اپنے پاس رکھنا یا تقسیم کرنا سنگین جرم ہے۔

تاہم ایسوسی ایشن آف چیف پولیس آفیسرز نے بی بی سی کو بتایا کہ بچوں پر سیکسٹنگ کے جرم میں مقدمہ چلانے کا امکان بہت کم ہے۔

ڈینیئل نامی ایک 19 سالہ نوجوان نے بتایا کہ انھیں ایک لڑکی نے ایک تصویر بھیجی تھی۔ اس کے بعد کسی معاملے پر دونوں کی لڑائی ہو گئی تو انھوں نے انتقاماً وہ تصویر ہر کسی کو بھیج دی۔

17 سالہ ٹیلر ویکس نے کہا: ’میری نسل کی بہت سی لڑکیاں توجہ اور محبت حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتی ہیں، لیکن یہ غلط طریقہ ہے۔‘

بچوں کے محکمے کی ڈپٹی کمشنر سو برکووچ کہتی ہیں کہ ’یہ آئی ٹی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تعلقات کا مسئلہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ہر سکول میں باہمی تعلقات اور جنسی تعلیم کے بارے میں پڑھایا جانا چاہیے:

’اس میں سیکسٹنگ اور موبائل ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات اور باہمی تعلقات اور جنسی تعلیم شامل ہونی چاہیے۔‘

اسی بارے میں