امریکہ کے نادہندہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا

امریکہ کے نادہندہ ہونے کے خطرے سے چند گھنٹے قبل امریکی کانگریس نے حکومتی کاروبار کھولنے اور قرض کی حد بڑھانے کے لیے قانون منظور کر لیا ہے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کی اکثریت ہے اور وہاں یہ قانون 18 کے مقابلے پر 81 ووٹوں سے بہت جلدی ہی منظور ہو گیا۔

ایوانِ نمائندگان جس میں اکثریت رپبلکن جماعت کی ہے جس نے کہا تھا کہ وہ بادلِ ناخواستہ اس قانون کو منظور کر لیں گے۔

قرض کی حد پر معاہدہ

سینیٹر قرض کی حد بڑھانے کے لیے پرامید

’امریکی مالیاتی بحران سے عالمی کساد بازاری شروع ہو سکتی ہے‘

یہ قانون 167 کھرب ڈالر کی حد بڑھانے کے لیے دی گئی مہلت سے چند گھنٹے پہلے منظور ہوا۔

منظور شدہ قانون کے تحت وفاق کی قرض لینے کی حد سات فروری تک اور حکومت کا خرچ چلانے کی مہلت 15 جنوری تک بڑھا دی گئی ہے۔

اس قانون کے تحت سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کا ایک پینل بنایا جائے گا جو طویل مدت بجٹ بنانے پر کام کرے گا۔

صدر اوباما نے اس قانون پر جمعرات کی صبح دستخط کر کے حکومت کے کاروبار کو کھولنے کے عمل کا آغاز کر دیا۔

اس ووٹ کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ ’ابھی بھی بہت سا کام کرنا باقی ہے جس میں امریکی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا بھی شامل ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’آج رات رپبلکن اور ڈیموکریٹ نے مل کر ایک معاہدہ منظور کیا ہے جس سے حکومت کا کاروبار دوبارہ کھل سکے گا اور اس سے ہماری معیشت کو درپیش دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل جائے گا۔‘

صدر اوباما نے سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایوانِ نمائندگان میں ووٹ کے بعد جب معاہدہ ان کے ڈیسک پر آئے گا وہ اس پر ’فوری دستخط کر دیں گے‘۔

صدر اوبام نے اس کے بعد اعلان کیا ہے کہ ’ہم اس کے بعد اپنی حکومت کا کاروبار دوبارہ کھولنا شروع کریں گے۔‘

رائے شماری کے بعد سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے اکثریتی رہنما ہیری ریڈ نے کہا: ’انصاف کی بات تو یہ ہے کہ قوم پر یہ مصیبت بغیر کسی معقول وجہ کے مسلط کی گئی، اور ہم کبھی بھی، کبھی بھی، یہ غلطی نہیں دہرا سکتے۔‘

رپبلکن پارٹی کے رہنما مچ مکانل نے کہا کہ یہ معاہدہ ’اس سے بہت کم ہے جس کی ہم میں سے اکثر نے امید کی تھی، لیکن پھر بھی یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو بعض لوگوں نے چاہا تھا۔‘

ایوانِ نمائندگان کے رپبلکن سپیکر جان بینر نے ایک بیان میں کہا: ’ہم آج سینیٹ کے ارکان کے درمیان طے پانے والے دو جماعتی معاہدے کو مسدود نہیں کریں گے۔‘

امریکی وزارتِ خزانہ اس سال مئی میں قرض کی حد پار کرنے کے بعد سے ’غیر معمولی اقدامات‘ کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کر رہی ہے۔

ان اقدامات کی مہلت 17 اکتوبر کو ختم ہو جائے گی، جس کے بعد اگر قرضے کی حد نہ بڑھائی گئی تو امریکہ اپنی قرضے کی ذمے داریاں پوری کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق لوگوں کی اکثریت اس بحران کا ذمے دار رپبلکن پارٹی کو ٹھہراتی ہے۔ بدھ کو اس نے شکست تسلیم کر لی۔

سپیکر جان بینر نے ایک امریکی ریڈیو سٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے جنگ تو خوب لڑی، بس جیت نہیں سکے۔‘

صدر اوباما نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس حوالے سے تفصیل سے بات بعد میں کریں گے مگر انہوں نے کہا کہ ’میں پہلے کہہ چکا ہوں اور دوبارہ کہوں گا کہ میں کسی کے ساتھ بھی کام کرنے کو تیار ہوں، ڈیموکریٹ ہو یا رپبلکن، ایوانِ نمائندگان کا رکن یا سینیٹ کا رکن جس کے پاس ہماری معیشت کو ترقی دینے کا، مزید روزگار پیدا کرنے اور متوسط طبقے کو مضبوط کرنے کا کوئی منصوبہ یا آئیڈیا ہو۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سمجھا کہ ڈیموکریٹس کے پاس ہی اچھے خیالات کا ٹھیکہ ہے‘۔

اسی بارے میں