سب سے زیادہ ’غلام‘ بھارت میں، پھر چین میں، پھر پاکستان میں

  • 17 اکتوبر 2013
Image caption اس سروے میں انسانی سمگلنگ اور جبری مشقت کے شکار افراد کی تعداد کو بھی شامل کیا گیا ہے

ایک نئے عالمی سروے کے مطابق دنیا میں تین کروڑ افراد جدید قسم کی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں جس میں کل تعداد کے حساب سے پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔

’دی گلوبل سلیوری انڈیکس 2013‘ میں 162 ممالک کو شامل کیا گیا ہے جس میں انڈیا میں سب سے زیادہ تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے موریطانیہ اس درجہ بندی میں سب سے اوپر ہے جہاں آبادی کا چار فیصد حصہ غلامی کی زندگی گزار رہا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس رپورٹ سے ان ممالک کی حکومتوں کو اس ’پوشیدہ جرم‘ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

یہ تحقیق انسانی حقوق کے آسٹریلوی ادارے ’واک فری فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے کی گئی ہے۔ اس انڈیکس کو ترتیب دینے کے لیے اس جدید قسم کی غلامی کی جو تشریح استعمال کی گئی ہے اس کے تحت قرض کے عوض غلامی، جبری شادی اور انسانی سمگلنگ کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

واک فری فاؤننڈیشن کے چیف ایگزیکٹو نِک گرونو نے فرانسیسی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’جو ہم بتانا چاہتے ہیں وہ کئی حکومتوں کو پسند نہیں آئے گا‘

’جو حکوتیں ہم سے رابطہ کرنا چاہتی ہیں ہم ان سے کھل کر بات کریں گے اور جدید قسم کی غلامی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے راستے تلاش کریں گے۔‘

اس ادارے کے تقریباً تین کروڑ کے اعداد و شمار اس سے قبل لگائے جانے والے اندازوں سے زیادہ ہیں۔

دی انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اندازوں کے مطابق تقریباً دو کروڑ دس لاکھ لوگ جبری مشقت کا شکار ہیں۔

واک فری فاؤنڈیشن کے مطابق انڈیا، چین، پاکستان، اور نائجیریا میں غلامی میں زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ دیگر پانچ ممالک ایسے ہیں جن کو اس میں شامل کر لیا جائے تو اس جدید غلامی میں رہنے والے کل افراد کی تعداد کا تین چوتھائی حصہ دس ممالک میں آباد ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس درجہ بندی میں انڈیا کے سب سے اوپر ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں شہریوں کو اندرون ملک ہی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موریطانیہ میں آبادی کے تناسب کے حساب سے غلاموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے کیوں کہ وہاں لوگوں کو غلامی اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملتی ہے۔ آبادی کے تناسب کے حساب سے ہیٹی نمبر دو جبکہ پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔

اس نئے سروے کو عالمی شخصیات کی حمایت حاصل ہے جن میں سابقہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلییر شامل ہیں۔

خبررساد ادارے اے پی نے ہیلری کلنٹن کے حوالے سے بتایا کہ یہ نیا انڈیکس بلاشبہ مکمل طور پر درست نہیں لیکن یہ ایک شروعات ہے۔

’میں دنیا بھر کے لیڈروں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس انڈیکس کو دیکھ کر اقدامات کریں اور اپنی توجہ اس جرم سے نمٹنے پر مرکوز رکھیں۔‘

اسی بارے میں