امریکی واشنگٹن سے مکمل طور پر بیزار: اوباما

Image caption صدر اوباما نے قرضے کی حد کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کو کہا ہے کہ امریکی شہری واشنگٹن سے مکمل طور پر بیزار ہو چکے ہیں۔

صدر اوباما نے یہ بات امریکی حکومت کے اداروں کو دوبارہ کھولنے اور امریکی قرضوں کی حد بڑہانے کے رپبلکن پارٹی سے معاہدے کے ایک دن بعد کہی ہے۔

انہوں نے حزب اختلاف کے منتخب نمائدگان پر زور دیا کہ وہ بجٹ، امیگریشن اور زرعی فارموں پر قانون سازی کرنے کے لیے تعاون کریں۔

اس معاہدے پر دستخط کر کے اسے قانون کا درج دینے کے چند گھنٹے بعد اوباما نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے واقعات نے امریکی معیشت کو بالکل غیر ضروری طور پر نقصان پہنچایا ہے جس سے باآسانی بچا جا سکتا ہے۔

امریکہ میں بجٹ کی منظوری میں تعطل کی وجہ سے امریکی حکومت کے کئی ادارے گزشتہ دو ہفتوں سے بند تھے اور ان کے ملازمین گھر بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ امریکی قرضوں کی حد میں توسیع کی مدت ختم ہو رہی تھی اور اس سے ایک دن قبل تک اس پر سینیٹ میں اس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔

صدر اوباما نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو ایسے بجٹ ترتیب دینے چاہیں جن سے قرضہ کم ہو، تعلیم اور سماجی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی جائے، غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں اور کارپورٹ میں سقم ختم کیے جائیں۔

اوباما نے کہا کہ کانگریس کو اس سال کے آخر تک امیگریش قانون کو حتمی شکل دے دینی چاہیے۔

اوباما حکومت کی تیسری ترجیح فارم بل کی منظوری ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں اس مسئلہ پر اختلاف ہے۔