نیوزی لینڈ میں پناہ کی انوکھی اپیل

Image caption کیریباتی بحرالکاہل میں جزائر کا ایک مجموعہ ہے جس کے زیرِ آب آنے کا حقیقی خدشہ موجود ہے

نیوزی لینڈ میں ایک شخص نے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اپنے جزیرے کے ڈوب جانے کے خطرے کو وجہ بنا کر پناہ کے رد کیے جانے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست دی ہے۔

بحرالکاہل میں واقع ایک چھوٹے سے جزیروں کے مجموعے کیریباتی کے شہری یوانے تتیوتہ نے نیوزی لینڈ کی ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے کہ ان کا ملک موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی سمندر کی سطح کے نتیجے میں پہلے ہی ڈوب رہا ہے۔

انہوں نے یہ درخواست نیوزی لینڈ کے امیگریشن محکمے کی جانب سے ان کی پناہ کی درخواست رد کیے جانے پر دی ہے۔

ہائی کورٹ نے ان کی اس اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

تتیوتہ نے ٹریبونل کو بتایا کہ ’جب میں واپس جاؤں گا تو میرے لیے وہاں کوئی مستقبل نہیں ہو گا‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خاندان اور ان کے تین نیوزی لینڈ میں پیدا ہوئے بچوں کو اگر زبرستی واپس بھجوایا گیا تو انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کیریباتی کئی کم گہرے پانیوں کے جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے اکثر کے ڈوبنے کا حقیقی خطرہ ہے۔

Image caption کیریباتی کی حکومت نے گزشتہ سال جزائر فجی کی حکومت سے زمین خریدی تھی تاکہ جزیرے کے ڈوبنے کے ممکنہ خطرے کی صورت میں اپنے شہریوں کو وہاں منتقل کر سکے

تتیوتہ 2007 سے نیوزی لینڈ میں رہ رہے ہیں مگر ان کا ویزا حال ہی میں ختم ہوا ہے۔

نیوزی لینڈ میں تتیوتہ کی پناہ کی درخواست کو اس بنیاد پر رد کیا گیا کہ ان کی جان کو ان کے آبائی ملک واپسی پر کوئی فوری اور حقیقی خطرہ لاحق نہیں ہے ۔

موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں درپیش خطے کے پیشِ نظر کیریباتی کی حکومت نے گزشتہ سال جزائر فجی کی حکومت سے زمین خریدی تھی تاکہ جزیرے کے ڈوبنے کے ممکنہ خطرے کی صورت میں اپنے شہریوں کو وہاں منتقل کر سکے۔

عدالت اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا ہے جو آئندہ ہفتوں میں جاری کیا جائے گا۔