’چن گونگ چن کا معاملہ امریکہ اور چین کے تعلقات کے لیے انتہائی نازک تھا‘ ہلیری کلنٹن

Image caption یہ گفتگو ہلیری کلنٹن نے گیارہ اکتوبر کو لندن کے ایک تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس میں کی

سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے سنہ دو ہزار بارہ کے دو ایسے واقعات کی تفصیلات بتائی ہیں جن سے امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات کو خطرہ تھا۔

انہوں کہا کہ لندن میں سیاسی رہنما بو شی لائے کے پولیس چیف وانگ لی جُن کا امریکی سفارتخانے میں پناہ لینا ایک ’خطرناک موڑ‘ تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے چینی حکومت سے سیاسی باغی چن گونگ چن کی امریکہ منتقلی کے حوالے سے سفارتی داؤ پیچ کا بھی ذکر کیا۔

ہلیری کلنٹن نے چن گونگ چن کے سلسلے میں پیدا ہونے والے تنازعے کے بارے میں کہا کہ یہ معاملہ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان سفاتی تعلقات کے انتہائی نازک موڑ تک پہنچ گیا تھا۔

یہ گفتگو ہلیری کلنٹن نے گیارہ اکتوبر کو لندن کے ایک تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس میں کی۔

وانگ لی جُن چُنچنگ میں کمیونسٹ پارٹی کے سابق سربراہ بو شی لائے کے پولیس چیف تھے۔ بو شی لائے پر بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے کے بعد انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

فروری سنہ دو ہزار بارہ میں وانگ لی جُن نے چنگڈو میں امریکی سفارتخانے میں پناہ لے لی اور برطانوی کاروباری شخصیت نیل ہیوڈ کی ہلاکت میں بوشی لائے کی بیوی گو کائے لائے کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ جب وانگ لی جُن امریکی سفارتخانے پہنچے تو وہ کسی بھی ایسی کیٹیگری میں نہیں تھے جس کی بنیاد پر امریکہ انہیں پناہ دیتا۔

ہلیری کلنٹن نے بتایا کہ ’وانگ لی جُن کا اپنا ماضی بدعنوانی، غنڈہ گردی اور ظلم سے بھرا ہوا تھا۔ وہ بوشی لائے کے بدمعاش رہ چکے تھے۔‘

سابق وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ سفارتخانے کو جلد ہی بوشی لائے کے وفادار پولیس اہلکاروں نےگھیرے میں لے لیا تھا۔

’تاہم وانگ لی جُن کا اصرار تھا کہ وہ بیجنگ تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اسی لیے ہم نے کہا کہ یہ ہم کر سکتے ہیں۔ اور پھر ہم نے یہی کیا۔ ہم نے اس معاملے میں کسی کو شرمندہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور پیشہ ورانہ انداز میں نمٹایا۔‘

بوشی لائے کی بیوی کو بعد میں نیل ہیوڈ کےقتل کی سزا دی گئی۔ بوشی لائے پر رشوت خوری، بدعنوانی اور طاقت کے غلط استعمال کا جرم ثابت کیا گیا اور وانگ لی جُن کو ان جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ہلیری کلنٹن نے یہ بھی بتایا کہ چینی حکومت سے سیاسی باغی چن گونگ چن کو بیجنگ میں امریکی سفارتخانے میں پناہ دینے کا فیصلہ ان کا تھا۔ چن گونگ چن نابینا ہیں، پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور جبری اسقاط حمل کے خلاف مہم چلا چکے ہیں۔

اپریل دو ہزار بارہ میں وہ اپنے گھر میں نظر بند تھے جہاں سے وہ بیجنگ میں امریکہ اور چین کے درمیان اہم مذاکرات سے ایک ہفتہ قبل فرار ہو گئے۔

Image caption ’چینی سربراہان سے میری ملاقاتیں انتہائی رسمی تھیں۔‘ ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن کہتی ہیں کہ ’ایک دن مجھے رات گئے چن گونگ چن کے بارے میں فون آیا۔ ہمیں ان کی جرات مندانہ کوششوں کے بارے میں پہلے سے ہی معلوم تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ معاملہ باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوگا مگر میرا خیال تھا کہ امریکی عقائد پر عملدرآمد کی ایک مثال بھی تھی۔‘

’کافی غور و فکر کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم ان کو لے کر آئیں گے۔‘

ابتدا میں چن گونگ چن نے چین میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعد میں جب انہیں پتا چلا کے ان کے خاندان والوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں تو انہوں نے امریکہ جانے کی درخواست کر دی۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ میں نے ریاستی کونسلر ڈائے بن گئو سے کہا کہ ’یہ ہم دونوں کے مفاد میں ہے اور کوئی ایسا راستہ تو ہوگا جس پر ہم دونوں متفق ہو جائیں۔‘

ہلیری کلنٹن بتاتی ہیں کہ ’اس پر ان کا پہلا ردِ عمل یہ تھا کہ ہم اس شخص کے بارے میں دوبارہ بات نہیں کرنا چاہتے اور ہم مذاکرات میں واپس نہیں جا سکتے۔‘

ہلیری کلنٹن کے بقول وہ اس بات پر بھی آمادہ ہوگئی تھیں کہ اس وقت کے چینی سربراہان ہو جنتاؤ اور ون جیا باؤ سے اپنی ملاقاتوں میں چن گونگ چن کی بات نہیں کریں گی۔

’چینی حکام نے ہم سے کہا تھا کہ سربراہان کے ساتھ ملاقاتوں میں اس پر بات نہ کریں۔ ہم اس معاملے کو خود ہی حل کر لیں گے۔ اسی لیے میں نے یہ بات نہیں اٹھائی اور میری سربراہان کے ساتھ ملاقاتیں بہت رسمی اور توقعات کے مطابق تھیں۔‘

چن گونگ چن کو بلآخر تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ بھیج دیا گیا تھا۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اور روابط بنانا ایک اہم عمل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’چینیوں کا خیال ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت و اثر رسوخ کو روکنے کے لیے ہمارا کیا منصوبہ ہے، واشنگٹن میں کہیں اس بارے میں ایک ماسٹر پلان موجود ہے۔ انہوں نے کھبی امریکی جمہوریت اور حکومت کی اونچ نیچ کو سمجھا نہیں۔‘

اسی بارے میں