بھارت میں زہریلی شراب سے 22 ہلاک

Image caption ملاوٹی شراب کا کاروبار بہت منفعت بخش ہے کیوں کہ اصلی شراب کے مقابلے پر یہ بہت سستی پڑتی ہے

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں زہریلی شراب پینے سے 22 لوگوں کی موت ہو گئی اور کم از کم آٹھ افراد ہسپتال میں ہیں۔

شراب فروخت کرنے والے شخص اور اس کے بیٹے نے بھی یہ شراب پی تھی اور یہ دونوں بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اعظم گڑھ کی ضلع مجسٹریٹ نینا شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد ضلع آبکاری افسر، آبکاری انسپکٹر اور کئی پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

نینا شرما نے بتایا کہ جس شحص نے یہ ملاوٹی شراب فروخت کی تھی وہ اس سے پہلے بھی نقلی شراب فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور دو مہینے پہلے ہی جیل سے رہا ہوا تھا۔

اعظم گڑھ کے پولیس سپرینٹنڈنٹ اروند سین نے بی بی سی کو بتایا کہ نقلی شراب کی فروخت جمعرات ہی سے شروع ہو گئی تھی۔ کئی لوگ اسی روز بیمارہو گئے تھے لیکن وہ گاؤں سے باہر نہیں گئے اور ان کی وہیں موت ہو گئی۔

جمعے کو جب مبارک پور قصبے کے ہسپتال میں بیمار لوگوں کے پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا تو اس واقعے کی خبر ضلع حکام تک پہنچی۔

اروند سین نے بتایا: ’اس علاقے میں شراب بنانے کا کام گھریلو کاروبار کی طرح پھیل گیا ہے۔ ایک لیٹر اصل شراب میں ملاوٹ کے ذریعے اسے دس لیٹر بنا لیا جاتا ہے اور پھر اسے سستے داموں پر گاؤں والوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ ملاوٹ کے اس عمل میں اکثر یہ شراب زہریلی ہو جاتی ہے۔‘

اسی بارے میں