عرب ریاستوں کا مطالبہ: ’سعودیہ سلامتی کونسل کی رکنیت ٹھکرانے کا فیصلہ واپس لے‘

Image caption مبصرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی نشست ٹھکرانے کا فیصلہ اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے آیا ہو گا

عرب ریاستوں نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں اپنی رکنیت کو قبول کر لے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو پانچ غیر مستقل ارکان کا انتخاب کیا تھا اور سعودی عرب کو پہلی بار منتخب کیا گیا تھا۔

لیکن دوسرے روز ہی سعودی عرب نے سلامتی کونسل پر ’دہرے معیار‘ کا الزام لگا کر اس کی غیر مستقل نشست ٹھکرا دی۔

سعودی عرب کے نام ایک مختصر بیان میں عرب ممالک کے سفارتکاروں نے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب اپنا فیصلہ واپس لے تاکہ وہ عرب دنیا اور اسلام سے متعلق مسائل پر اقوامِ متحدہ میں مسلم دنیا کا دفاع کر سکے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے انھیں سعودی عرب کی جانب سے سلامتی کونسل کی نشست مسترد کرنے کے فیصلے کی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

سعودیہ کا سلامتی کونسل کی نشست لینے سے انکار

سعودی عرب کی پہلی خاتون فلمساز

سات سائبر کارکنوں کو سزا

سعودی عرب کی وزارت کا کہنا تھا کہ پہلے اقوامِ متحدہ کی اصلاح ہونی چاہیے۔ اس نے کہا کہ سلامتی کونسل شام اور دنیا کے دوسرے تنازعات میں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بان کی مون نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا وہ سعودی شاہ سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار نادا توفیق کے مطابق اس غیرمعمولی اقدام پر سفارت کاروں میں حیرت اور صدمہ دیکھا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں فرانس کے سفیر جیرارڈ اروڈ نے کہا: ’ہمارا خیال ہے کہ سعودی عرب سلامتی کونسل میں بہت مثبت کردار ادا کر سکتا تھا، لیکن ہم سعودی عرب کی جھنجھلاہٹ کو بھی سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’حقیقت یہ ہے کہ سلامتی کونسل دو برس سے زیادہ عرصے سے عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘

تاہم روس کی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کو تعجب خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سلامتی کونسل پر شام کے معاملے پر تنقید ’حیران کن‘ ہے۔

سعودی عرب شام کے باغیوں کے حمایت کرتا ہے اور اسے شکایت ہے کہ بین الاقوامی برادری نے شام کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

کونسل پر ’دہرے معیار‘ کا الزام لگانے اور اصلاح کے مطالبے کے علاوہ سعودی وزارتِ خارجہ نے 65 برس سے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے میں ناکامی کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ اس کی وجہ سے متعدد جنگیں ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے عالمی امن خطرے میں پڑا ہے۔

اس کے علاوہ اس نے کہا کہ سلامتی کونسل مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی اسلحے سمیت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

مزید برآں، اس نے اقوامِ متحدہ پر الزام لگایا کہ اس نے شامی حکومت کو اپنے ہی عوام کو کیمیائی ہتھیاروں سے قتل کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کئی برسوں سے سلامتی کونسل میں نشست حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھا، اس لیے یہ فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے آیا ہو گا۔

اسی بارے میں