امریکی سرکاری ملازم دوبارہ کام پر

Image caption صدر اوباما نے کہا کہ اس جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوئی

16دن طویل ’شٹ ڈاؤن‘ ختم کرنے اور قرض کی حد بڑھانے کے معاہدے پر صدر اوباما کے دستخطوں کے ساتھ ہی لاکھوں امریکی ملازمین دوبارہ کام پر جا رہے ہیں۔

یہ دو جماعتی معاہدہ عین اس وقت ہوا جب امریکہ نادہندگی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔

صدر اوباما نے کہا: ’اس جنگ میں کوئی نہیں جیتا۔‘

سیاست دانوں، بینکاروں اور ماہرین معاشیات نے خبردار کیا تھا کہ اگر قرض کی حد بروقت نہ بڑھائی گئی تو اس سے عالمی پیمانے پر مالیاتی تباہی پھیل سکتی ہے۔

شٹ ڈاؤن سے امریکی شہری بے شمار طریقوں سے متاثر ہوئے۔ اکثر سرکاری پارک، طبی ادارے اور دفاتر بند رہے، جس سے کاغذی کارروائی تاخیر کا شکار ہوئی، اور ویزا کی درخواستوں، کاروباری پرمٹوں، اور حفاظتی معائنوں کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

شٹ ڈاؤن کے دوران لاکھوں ملازمین کو بغیر تنخواہ رخصت پر بھیج دیا گیا۔ تاہم جمعرات کی صبح امریکی ملازمین کے دفتر نے اپنی ویب سائٹ پر مختصر اعلان کیا کہ سرکاری ملازم معمول کے مطابق کام پر واپس آ جائیں۔

وزارتِ داخلہ میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ عہدے دار ریا سو سرکاری پارکوں اور دوسری سرکاری زمین کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ انھوں نے ملازمین کو یاد دلایا کہ ای میل پر ’دفتر سے باہر‘ کے پیغام ختم کر دیں، اور اگر فرج میں گلا سڑا کھانا پڑا ہے تو اسے پھینک دیں۔

ریا سو نے کہا: ’ہم اسے مشکل وقت میں آپ کی قربانی کی قدر کرتے ہیں، اور یہ جانتے ہیں کہ سرکاری کام بند ہونے کی وجہ سے آپ، آپ کے خاندان کے افراد اور عوام کو سختی برداشت کرنا پڑی۔‘

واشنگٹن ڈی سی کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے ملازمین کا استقبال نائب صدر جو بائڈن نے کیا۔

ایک عمارت کی سکیورٹی افسر نے کہا کہ شٹ ڈاؤن مایوس کن تھا اور اس سے انھیں معلوم ہوا کہ انھیں اپنی ملازمت سے کس قدر محبت ہے۔

ایٹریٹین ویلچ نے کہا: ’میں ہر روز 500 لوگوں کی چیکنگ کرنے میں مسرت محسوس کرتی ہوں۔‘

اسی بارے میں