عراق: بغداد کے ایک کیفے میں خودکش حملہ، 37 ہلاک

  • 21 اکتوبر 2013
ایک اندازے کے مطابق رواں سال عراق میں اب تک تشدد کے واقعات میں چھ ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے ایک کیفے میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم سے کم سینتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتوار کی شام کو ہوئے اس حملے میں کم سے کم بیالیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں عراق میں خودکش حملوں اور تشدد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اور رواں سال عراق میں تشدد کے واقعات میں اب تک کم سے کم چھ ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے اس حملے میں پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک کار کو ایک کیفے کے پاس لا کر اڑا دیا گیا۔ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جس کیفے اور مشروبات کی دکان کو نشانہ بنایا وہ نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کو ہی مغربی انبار صوبے میں پانچ خودکش حملہ آوروں نے سرکاری عمارت پر حملہ کیا جس میں دو پولیس اور تین سرکاری اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ایک دوسرے واقعے میں پولیس کے مطابق بغداد کے شمال میں واقع شہر سمارا میں خودکش حملے میں چھ افراد مارے گئے ہیں۔

عراق میں شدت پسند اکثر کیفے، بازاروں، مساجد اور بھیڑ بھاڑ والے دوسرے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ قیادت والی عراقی حکومت ملک کی اقلیتی سنی آبادی کی تكليفوں کو دور نہیں کر پائی ہے اور اسے تشدد میں اضافہ کی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے۔

بہت سے سنیوں کی شکایت ہے کہ انہیں سرکاری ملازمتیں اور بڑے عہدے نہیں دیے جاتے ہیں اور وہ سیکورٹی فورسز پر ظلم و زیادتی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

اسی بارے میں