شام کے شہر حما میں ٹرک بم دھماکہ، کم از کم تیس ہلاک

Image caption اس دھماکے کے نتیجے میں ایک پٹرول پمپ بھی پھٹ گیا جس کے نتیجے میں نقصان زیادہ ہوا ہے

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حما نامی شہر میں ایک ٹرک بم دھماکے میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں شامی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا اور ہلاک شدگان میں فوجی بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2011 میں شامی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں صدر بشار الاسد کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ حما ہی میں کیا گیا تھا۔

تاہم اس کے بعد شامی سکیورٹی فورسز حما میں داخل ہوگئیں اور اس شہر پر اب بھی ان کا ہی کنٹرول ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ’حما شہر میں صنعاء ہائی وے پر ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے بعد شدید فائرنگ ہوئی۔‘

ابتدائی اطلاعات کے مطابق شامی حکومت کی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس علاقے میں ایمبولینسز دیکھی گئی ہیں۔

اس دھماکے کے نتیجے میں ایک پٹرول پمپ بھی پھٹ گیا جس کے نتیجے میں نقصان زیادہ ہوا ہے۔

سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق ’زراعت کے لیے تیار کی جانے والی گاڑیوں کی فیکٹری کے قریب سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

خیال رہے کہ سنہ 1982 میں حما ہی میں صدر بشار الاسد کے والد اور اس وقت کے صدر حافظ الاسد کے خلاف احتجاج ہوا تھا جسے کچل دیا گیا تھا اور یہاں دسیوں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔

دوسری جانب عرب لیگ کے سربراہ نبیل العرابی نے کہا ہے کہ شام پر کانفرنس تئیس نومبر کو جنیوا میں منعقد ہو گی۔ تاہم ان کا یہ بیان اس کانفرنس کا باضابطہ اعلان نہیں ہے۔

نبیل نے یہ بات شام کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ خصوصی ایلچی الاخضر براہیمی سے ملاقات کے بعد کہی۔

الاخضر براہیمی آج کل شام پر کانفرنس کے حوالے سے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ الاخضر براہیمی نے اس کانفرنس کے حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان یہ کہتے ہوئے نہیں کیا کہ وہ اس کا اعلان اپنے دورے کے بعد کریں گے۔

نبیل العرابی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے ابھی بھی کئی رکاوٹیں ہیں۔

اسی بارے میں