تیز بارش کے بعد فوکوشیما پلانٹ سے تابکار پانی لیک

Image caption جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹ سے حالیہ مہینوں میں کئی بار زہریلا پانی خارج ہوتا رہا ہے

جاپان میں فوکوشیما جوہری پلانٹ کے آپریٹر کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والی غیر متوقع شدید بارش کے بعد فوکوشیما پلانٹ سے زہریلا پانی خارج ہونا شروع ہو گیا ہے۔

جوہری پلانٹ کے آپریٹر ٹیپکو کا کہنا ہے کہ سٹرونشیئم 90 نامی تابکار عنصر سے آلودہ زہریلا پانی رکاوٹوں کو عبور کر کے پانی کے ٹینکوں سےباہر نکل آیا۔

خیال رہے کہ ان ٹینکوں میں جوہری پلانٹ کے متاثرہ ری ایکٹروں کا پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

فوکو شیما حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ، رپورٹ

جاپان میں اب صرف ایک نیوکلیئر ری ایکٹر

فوکوشیما جوہری پلانٹ کے ری ایکٹرز کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان پر پانی ڈالا جا رہا ہے تاہم اس سے بڑی مقدار میں پانی آلودہ ہو جاتا ہے جسے لازمی طور پر حفاظت سے سٹور کرنا پڑتا ہے۔

ٹینکوں اور پائپوں سے لیک ہونے والی پانی نے ڈھانچے کو متاثر کیا جس کے بعد خدشہ ہے کہ آلودہ پانی صاف پانی میں گھل رہا ہے۔

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) کا کہنا ہے کہ اس بار بارش کا پانی آلودہ سطح سے ٹکرانے کے بعد خود بھی آلودہ ہو گیا اور اس کے بعد سیمنٹ کی ان رکاوٹوں کے اوپر سے بہہ گیا جو ان پانی کے ٹینکوں کے گرد بنائی گئی تھیں۔

ٹیپکو کا کہنا ہے کہ اس بار ایک حصے میں سٹرونشیئم 90 کی مقدار اسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کی حد سے 70گنا زیادہ تھی۔

ٹیپکو کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہمارے پمپ بارش کے پانی کو سنبھال نہ سکے جس کے نتیجے میں وہ پانی زہریلے حصوں میں بہہ گیا۔

ٹیپکو کے مطابق جب جوہری ری ایکٹر کے اندر یورینیئم اور پلوٹونیئم کا انشقاق (fission) ہوتا ہے تو اس سے ذیلی پیداوار کے تحت سٹرونشیئم 90 حاصل ہوتا ہے جو تابکار مادہ ہے۔

یہ تابکار مادہ انسانی جسم کے اندر آسانی سے جذب ہو جاتا ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہڈیوں کے سرطان کا باعث بن سکتا ہے۔

جاپان کے فوکوشیما جوہری پلانٹ سے حالیہ مہینوں میں کئی بار زہریلا پانی خارج ہوتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ سنہ 2011 کے سونامی اور زلزلے کے نتیجے میں فوکوشیما جوہری پلانٹ بری طرح متاثر ہوا تھا۔

زلزلے اور سونامی کے سبب فوکوشیما کے چھ ری ایکٹروں میں سے چار کے کولنگ نظام تباہ ہوجانے کی وجہ سے بند ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں