پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کر دے: امریکہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایڈ روئس نے پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ملاقات میں ان پر زور دیا کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کر دیں۔

ایڈ روئس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے امریکی ایوانِ نمائندگان میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ میاں نواز شریف سے ملاقات کی جس میں 15 اراکین شامل تھے۔

برن ہاؤس آفس کی عمارت میں ہونے والی ملاقات میں روئس کے بیان کے مطابق ’ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے میاں نواز شریف سے کھل کر تمام معاملات پر بات چیت کی۔ ملاقات میں خصوصی طور پر وزیر اعظم پر زور دیا گیا کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا کر دیں۔‘

بیان کے مطابق ’پاکستانی وزیراعظم سے کہا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان دہشت گردی، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور خطے میں پر تشدد شدت پسندی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا موثر ساتھی بنے۔‘

اس کے علاوہ علاقائی تجارت اور امریکہ کے ساتھ وسیع تجارتی تعلقات کے علاوہ تعلیمی اصلاحات کی بات بھی کی گئی۔

اس ملاقات میں پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی، قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور دوسرے اعلیٰ سطحی اہلکار بھی شامل تھے۔

شکیل آفریدی کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں دو مئی 2011 کو امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے 20 روز بعد پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد ان سے مسلسل تفتیش کی جاتی رہی۔

23 مئی 2011 کو خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ نے انھیں شدت پسندوں کے ساتھ روابط اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں سے تعلقات اور اطلاعات فراہم کرنے کے الزام میں 33 سال کی سزا سنائی تھی۔

جون 2012 میں قبائلی علاقوں کے قانون ایف سی آر کے تحت سنائی گئی 33 سال کی سزا کے خلاف کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

اگست 2013 میں خیبر پختونخوا کے پشاور ڈویژن کے کمشنر نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایک شدت پسند تنظیم سے معاونت کرنے کے الزام میں دی گئی 33 برس قید اور جرمانے کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں