’امریکہ سن رہا ہے لیکن وقت زیادہ نہیں‘

Image caption اس دورے کےدوران کئی متنازع امور بھی زیر بحث آئے جن میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی شامل ہے

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے امریکہ کے سرکاری دورے کے بارے میں وائٹ ہاؤس اور امریکی دفترِ خارجہ سے ابھی تک جو اشارے ملے رہے ہیں ان میں باہمی دوستی اور دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے دور کے آغاز کا پیغام ملتا ہے۔

ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی رکی ہوئی معاشی اور فوجی امداد کا بحال ہونا، امریکی مدد سے آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے چھ ارب 60 کروڑ ڈالر کا ملنا۔ ان سب کو اچھے مثبت اثرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن امریکہ کی اپنی توقعات ہیں۔

امریکی تھینک ٹینک ووڈرو ولسن سنٹر کے جنوبی ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر رابرٹ ہیتھ وے کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں استحکام لانے کے لیے نواز شریف سے اور زیادہ تعاون کی امید رکھے گا۔

رابرٹ ہیتھ وے کہتے ہیں کہ ’واشنگٹن نواز شریف سے سننا چاہے گا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر موجود ان جہادی اور شدت پسند طاقتوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں گے جو سرحد پار جا کر افغانستان میں تشدد پھیلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ ان سے افغانی طالبان کو مذاکرات کے لیے منوانے اور پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف سخت سے سخت مہم چلانے کی توقع رکھے گا۔‘

واشنگٹن کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستان امریکہ تعلقات پر برسوں سے کام کرنے والے حسن عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان سے جو توقعات ہیں وہ کافی حد تک فوجی اداروں سے تعلق رکھتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’افغان طالبان کے مسئلے پر امریکہ کی یہ توقع ہے کہ پاکستان ان میں چند اہم لوگوں کو مذاکرات کی میز تک لے آئے گا تاکہ امریکہ کو آسانی ہو۔ امریکہ کو اس سلسلے میں تشویش تو ہے مگر اس پر کچھ کام بھی ہو رہا ہے تبھی امریکہ پاکستان کی فوجی امداد بحال کر رہا ہے۔‘

جب پاکستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں افغانستان بڑا موضوع بن کر آتا ہے تو سوال یہ بھی اٹھتے ہیں کہ کیا 2014 کے بعد بھی امریکہ پاکستان کے ساتھ رشتے کو توجہ دے گا یا پھر 1989 کی طرح ایک مرتبہ پھر پاکستان کو بھلا دیا جائے گا؟

حسن عباس کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ دیر پا تعلق بنائے رکھنا چاہے گا لیکن کچھ بدلے گا بھی۔

’امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات طویل مدتی ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کو گذشتہ پانچ سال میں جتنی مالی امداد ملی ہے، 2014 کے بعد وہ آہستہ آہستہ کم ہوتی جائے گی۔ لیکن تعلقات رہیں گے۔‘

امریکی کانگرس میں بھی گذشتہ چند برسوں میں پاکستان کے حوالے سے اعتماد میں کمی آئی ہے۔ پاکستان کو دی جانے والی امداد پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ کیا نواز شریف اس سوچ کو بدلنے میں کامیاب ہوں گے؟

ووڈرو ولسن سنٹر کے رابرٹ ہیتھ وے کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے بعد ایک جمہوری حکومت کا آنا ایک اچھی خبر کے طور پر دیکھا گیا ہے لیکن نواز شریف ملک کو کس طرح چلاتے ہیں اس پر سب کی نظر ہوگی۔

کئی تجزیہ کار ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس دورے سے بہت امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ایک تو یہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب امریکہ اپنے داخلی مسائل میں گھرا ہوا ہے اور خارجہ معاملات میں بھی توجہ ایران اور شام پر ہے۔

واشنگٹن میں تھنک ٹینک اٹلینٹک کونسل کے جنوبی ایشیا سنٹر کے ڈائریکٹر شجاع نواز کہتے ہیں: ’اس کا سب سے بڑا فائدہ میاں نواز شریف کو ہوا کہ وہ پاکستان میں اپنی قوم کو یہ دکھا سکیں گے کہ پاکستانی وزیرِاعظم کی آؤ بھگت ہوئی اور بڑی اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ امریکہ کی جانب سے لگتا یہی ہے کہ وہ اس رشتے میں ایک ’مینٹیننس موڈ‘ میں ہے۔ ابھی تک دونوں طرف شکوک و شبہات بہت ہیں، اور جب تک وہ نہیں ہٹتے، میں نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی بنیادی فرق دیکھیں گے۔‘

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی امداد کی بحالی سے یہ قطعاً ظاہر نہیں ہوتا کہ امریکہ حقیقی معنوں میں طویل المدتی تعلقات رکھنا چاہتا ہے بلکہ یہ تو ایک طرح کا سوداگری کا رشتہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نواز دہشت گردی پر قابو پانے، پاکستانی معیشت کو بہتر کرنے اور افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو امریکی دارالحکومت میں ان کی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے۔

وزیرِاعظم نواز شریف کا گذشتہ سرکاری دورہ اس وقت ہوا تھا جب جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا ماحول تھا۔ ایک بار پھر ان کے سامنے کئی مسائل منہ کھول کر کھڑے ہیں۔ امریکہ اس وقت ان کی غور سے سن رہا ہے لیکن شاید وقت زیادہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں