امریکہ کا پاکستان میں ڈرون حملوں کا دفاع

Image caption جے کارنی نے یہ بھی کہا کہ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوجیوں کو بھجوانے کی بجائے دوسرے ہتھیاروں کا استعمال کر کے واشنگٹن ایسا قدم اٹھاتا ہے جس سے کم سے کم معصوم جانوں کا ضیاع ہو

امریکہ نے پاکستان اور یمن میں اپنے ڈرون حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی قوانین پر عمل در آمد کے معاملے میں ’غیر معمولی احتیاط‘ کا مظاہرہ کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ڈرون حملوں میں مشتبہ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ’اس طریقے کے نتیجے میں بہت کم امکان ہے کہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ہو‘۔

یہ بیان عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کی مشترکہ رپورٹ کے اجرا کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے دیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹریشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی مشترکہ رپورٹ

ڈرون حملے پاکستان امریکہ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہیں:نواز شریف

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ ’ہم ان رپورٹوں کا احتیاط سے جائزہ لے رہے ہیں اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ امریکہ نے عالمی قوانین کے برعکس کارروائی کی ہے تو ہم اس سے شدید اختلاف کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ اس نوعیت کی انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہم غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں تاکہ وہ تمام متعلقہ قوانین سے مطابقت رکھیں۔‘

جے کارنی نے یہ بھی کہا کہ مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی بھیجنے کی بجائے دوسرے ہتھیاروں کا استعمال کر کے واشنگٹن ایسا قدم اٹھاتا ہے جس سے کم سے کم معصوم جانوں کا ضیاع ہو۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے بھی ان رپورٹوں پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹوں میں بیان کیے گئے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں امریکی اعداد و شمار اور رپورٹوں میں بیان کیے گئے اعداد میں بہت ’واضح فرق‘ ہے۔

اس رپورٹ میں ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اسے ملنے والے نئے شواہد سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ نے ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستان میں غیر قانونی طور پر شہریوں کو ہلاک کیا ہے جس میں سے بعض جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

’وِل آئی بی نیکسٹ؟ یو ایس ڈرون سٹرائیکس ان پاکستان‘ نامی یہ رپورٹ منگل کو جاری کی گئی جس کا مطلب ہے ’کیا اگلا شکار میں ہوں؟ پاکستان میں امریکی ڈرون حملے۔‘

پاکستانی وزیر اعظم نے بھی منگل کو امریکہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کرے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

امریکی حکومت ڈرون حملوں کا استعمال القاعدہ اور طالبان کے خلاف مرکزی نوعیت کے ہتھیار کے طور پر کرتی ہے۔

ڈرون حملوں کے پروگرام کے بارے میں بہت کم تفصیلات دستیاب ہیں، اور ان میں استعمال ہونے والے طیاروں کو دنیا کے مختلف براعظموں میں واقع مراکز میں بیٹھے لوگ اڑاتے ہیں۔

ان حملوں کے نتیجے میں کئی اعلیٰ سطح کے شدت پسند اور دہشت گرد مارے جا چکے ہیں مگر کئی بار ان حملوں میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں جس سے پاکستان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ایمنٹسی کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی ڈرون منصوبے پر اب تک کی جامع ترین رپورٹ ہے جسے انسانی حقوق کے نقطۂ نظر سے تیار کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں جس کے بارے میں ایمنٹسی کا دعویٰ ہے کہ اس پروگرام میں کسی قسم کی کوئی شفافیت نہیں پائی جاتی۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کے پاکستان پر محقق مصطفیٰ قادری نے بتایا ’ڈرون حملوں کے ارد گرد رازداری کے پردے میں امریکی انتظامیہ کو عدالتوں اور عالمی قوانین کے دائرہ کار سے آزاد قتل کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اپنے ڈرون پروگرام کے بارے میں حقائق سامنے لائے اور ان لوگوں کو سزا دے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔‘

اسی بارے میں