سلطنتِ برونائی میں سخت شرعی قانون نافذ

سلطان حسن بلقيہ
Image caption ریاست کے 67 سالہ سلطان حسن بلقيہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔

سلطنتِ برونائی نے سخت گیر شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

یہ قوانین صرف مسلمانوں پر لاگو ہوں گے۔ ان قوانین کے تحت بالغ افراد کے لیے سنگساری اور چوری کرنے پر اعضا کاٹنے کی سزائیں دی جا سکیں گی۔

برونائی میں پہلے سے ہی سخت اسلامی قوانین نافذ ہیں اور ہمسایہ ریاستوں ملائیشیا اور انڈونیشیا کے برعکس یہاں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی ہے۔

شرعی عدالتیں ’امتیازی، غیر قانونی‘

نئے قوانین چھ ماہ میں نافذالعمل ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کی دستاویز کے مطابق اسقاطِ حمل اور شراب پینے کے جرم میں کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔

ریاست کے 67 سالہ سلطان حسن بلقيہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ان قوانین کو متعارف کرتے ہوئے اسے عظیم قومی تاریخ قرار دیا۔

سلطان نے پہلے ہی ملک میں مسلمان بچوں کے لیے مذہبی تعلیم لازمی قرار دے رکھی ہے جب کہ جمعے کے روز تمام کاروبار بند رکھنے کا حکم ہے۔

لیکن اس سے پہلے ملک کی شرعی عدالتیں صرف خاندانی معاملات جیسے شادی اور وراثت کے مسائل تک محدود تھیں۔

ملک کی سول عدالتیں برطانوی قانون پر مبنی ہیں اور یہ تب سے رائج ہیں جب یہ سلطنت برطانوی انتظام میں تھی۔

برونائی ایشیا کے ان ممالک سے ایک ہے جہاں شہریوں کو بہترین سہولیاتِ زندگی میسر ہیں اور یہ سب ملک میں حاصل ہونے والے تیل اور گیس کے ذخائر کی بدولت ہے۔ یہاں لوگوں کو مفت صحت اور تعلیم کی سہولت میسر ہے۔

سلطان نے وضح کیا کہ نئے قوانین سے ریاست کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور پرانے ججوں سزائیں سنانے کا اختیار ہوگا۔

یہ نئے قوانین صرف مسلمانوں پر پر لاگو ہوں گے جو سلطنت کی چار لاکھ آبادی کا دو تہائی ہیں۔

اسی بارے میں