اپنا گھر خود خراب کیا اور ہمیں ہی اسے ٹھیک کرنا ہے:نواز شریف

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ’اپنے گھر کو ہم نے خود خراب کیا ہے اور آج ہمیں خود اسے ٹھیک کرنا ہے۔‘

نواز شریف امریکہ کے چار روزہ دورے پر ہیں اور انہوں نے بدھ کو امریکی صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا: ’پچھلی دہائیوں میں ہم نے ملک کو ٹھیک نہیں کیا بلکہ ہم نے خود خراب کیا ہے اور آج ہمیں اسے خود ٹھیک کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ملک کی سمت کا تعین کیا جا رہا ہے بلکہ وہ ایسا کر چکے ہیں۔

نواز شریف کے مطابق ملاقات میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر امریکی صدر سے پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

صدر اوباما نے صحافیوں کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک چیلنج ہے اور بات چیت کے دوران یہ معاملہ بھی زیرِ بحث آیا کہ کس طریقے سے تعاون کرتے ہوئے پاکستان کی خود مختاری کا احترام کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کے تحفظات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم مل کر ایسے تعمیری ذرائع تلاش کریں گے جن سے پاکستان کی خودمختاری کا احترام ہو سکے۔‘

مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’کسی بھی ملک کی زمین پڑوسی ملکوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔‘

دونوں رہنماؤں نے پانچ ورکنگ گروپس بشمول انسداد دہشت گردی، معیشت، فنانس، توانائی، سکیورٹی، سٹریٹجک استحکام اور ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے سٹریٹجی ترجیحات کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور افغانستان میں ان کی دوبارہ آبادکاری میں بین الاقوامی برادری کا کردار اور مدد پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی پر زور دیا۔

صدر اوباما نے وزیر اعظم نواز شریف کی انتخابات میں کامیابی اور اقتدار میں آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں جمہوری اقدار کی کامیابی ہے۔

صدر اوباما نے اپنی گفتگو میں ڈرون حملوں کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی بات نہیں مگر نواز شریف نے صدر اوباما کی موجودگی میں اپنا لکھا ہوا بیان جب پڑھا تو انہوں نے اس میں ڈرون حملوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ’میں نے ڈرون حملوں کا معاملہ اس ملاقات میں اٹھایا اور اس طرح کے حملوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کو اپنی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔

صدر اوباما نے پاکستان کو ’اہم سٹریٹجک حلیف‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اس ملاقات کے بڑے حصے میں معیشت اور اقتصادیات پر بات کی کہ کیسے امریکہ پاکستان کی توانائی اور دوسرے شعبوں میں مدد کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیسے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ ’ملک کے اندر حکومت چار اہم شعبوں میں بہتری پر کام کر رہی ہے اور وہ ہیں معیشت، توانائی، تعلیم اور شدت پسندی کا مقابلہ۔ ہم دونوں نے اتفاق کیا کہ ان بنیادی شعبوں میں ترقی نئی نسل کے لیے پر امید مستقبل کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘

نواز شریف نے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہشمند ہیں جس کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ یہ بہت سمجھداری کا راستہ ہے۔

نواز شریف نے یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر نے بات چیت میں ان سے سرحد پار دہشت گردی اور جماعۃ الدعوۃ کے حوالے سے بھی بات کی اور ممبئی حملوں کے مجرموں کو اب تک سزا نہ ملنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔

اسی بارے میں