میرکل کے فون کی ’نگرانی‘ پر امریکی سفیر کی طلبی

Image caption انگیلا میرکل نے بدھ کے روز اپنے فون کی نگرانی سے متعلق خدشات پر براک اوباما سے بات کی تھی

جرمنی نے چانسلر انگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کے خدشات پر امریکی سفیر کو طلب کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویل برلن میں امریکی سفیر جان ایمرسن سے ملاقات کریں گے۔

جرمنی کی طرف سے اپنے سربراہ حکومت کے ٹیلی فون کی نگرانی پر اپنے انتہائی قریبی اتحادی ملک کے سفیر کی وزارت خارجہ طلب کر کے وضاحتیں مانگنا انتہائی غیر معمولی سفارتی واقعہ ہے۔

یورپی یونین کا امریکہ سے ’جاسوسی‘ کی وضاحت کا مطالبہ

جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے چانسلر انگیلا میرکل کے ٹیلی فون کی نگرانی انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اب معاملات پہلے کی سطح پر نہیں جا سکتے۔

انگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کا واقعہ یورپی یونین کےسربراہی اجلاس کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ فرانس پہلے ہی مطالبہ کر چکا ہے کہ امریکی اداروں کی طرف سے یورپی یونین کے شہریوں اور اس کے رہنماؤں کی نگرانی کے معاملے کو یورپی یونین کے ایجنڈے پر رکھا جائے۔

بدھ کے روز میرکل نے اپنے فون کی نگرانی سے متعلق خدشات پر امریکی صدر براک اوباما سے بھی بات کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے جرمن چانسلر کو بتایا کہ امریکہ ان کے فون کی نگرانی نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کرے گا۔

البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ نے ماضی میں جرمن چانسلر کے ٹیلیفون کالز کو سنا تھا یا نہیں۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے یورپی شہریوں کے ٹیلی فونوں کی نگرانی کے معاملے کی یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں شمولیت کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

بی بی سی کے یورپ ایڈیٹر گیون ہیوٹ کے مطابق جرمنی اور فرانس کے علاوہ دوسرے یورپی ممالک بھی امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی کارروائیوں سے متعلق وضاحتیں چاہتے ہیں۔

انگیلا میرکل کے ترجمان نے کہا کہ وہ اپنے ٹیلی فون کی نگرانی کو ’ناقابل قبول‘سمجھتی ہیں اور امریکہ سے مکمل وضاحتیں چاہتی ہیں۔

جرمن چانسلر کے ترجمان سٹیفن سیبرٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو جرمنی جیسے اتحادیوں کے سربراہ حکومت کے ٹیلی فون کی نگرانی نہیں کرنی چاہیے۔

یورپی یونین کے ماہر فرانسیی کمشنر مائیکل بارنئر نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا:’اب بہت ہو چکی۔ ہمارا امریکہ پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو سادہ بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے اور اسے ایسے متبادل ڈیجٹل ٹولز بنانے کی ضرورت ہے جن کی امریکہ نگرانی نہ کر پائے۔

جرمنی میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون ایونز نے کہا ہے کہ جرمن چانسلر کے فون کی نگرانی کی خبر پر جرمنی میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس خبر کی جس طرح کوریج کی گئی وہ جرمنی کے غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

جرمنی کے وزیر دفاع تھامس ڈی میزیئر نے کہا ہے کہ جرمن چانسلر کی فون کی نگرانی اتنی آسانی سے بھلائی نہیں جا سکتی اور یہ آسانی کسی بڑے واقعے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

امریکی ادارے سی آئی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے رواں برس جون میں انگیلا میرکل کو بتایا تھا کہ امریکہ جرمن شہریوں کی مسلسل نگرانی نہیں کرتا۔ اس موقع میرکل کے مخالفین نے ان پر تنقید کی تھی کہ انہوں نے جرمنی شہریوں کی نگرانی کےمعاملے کو بھرپور انداز میں نہیں اٹھایا تھا۔

اسی بارے میں