دنیا میں صنفی تفریق میں معمولی کمی: ورلڈ اکنامک فورم

Image caption دنیا کے بیشتر ممالک میں گزشتہ برس کے دوران صنفی تفریق میں معمولی کمی آئی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں گزشتہ برس کے دوران صنفی تفریق میں معمولی کمی آئی ہے۔

گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2013 میں جن 136 ممالک میں مردوں اور خواتین کے درمیان تفاوت کا جائزہ لیا گیا ان میں آئس لینڈ، فن لینڈ اور ناروے میں یہ فرق سب سے کم پایا گیا۔

دنیا میں صنفی تفریق: انٹرایکٹو نقشہ

اس جائزے کے نتائج دونوں اصناف کی سیاسی نمائندگی، اقتصادی برابری اور تعلیم اور صحت جیسے حقوق کی دستیابی کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 136 میں سے 86 ممالک میں عمومی طور پر سنہ دو ہزار تیرہ میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق نسبتاً کم ہوا۔ ان ممالک کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا ترانوے فیصد ہے۔

جائزے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ وہ دو خطے تھے جہاں صورتحال بہتر نہیں ہوئی اور اس فرق کے حوالے سے بدترین حالات یمن میں ہیں۔

عالمی اقتصادی فورم گزشتہ 8 برس سے ہر سال یہ رپورٹ جاری کرتا ہے اور آئس لینڈ کو اس رپورٹ میں لگاتار پانچویں سال صنفی برابری کے لیے بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کی بانی اور شریک مصنفہ سعدیہ زاہدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ 2006 میں اس انڈیکس کے اجرا کے بعد سے اب تک 80 فیصد ممالک میں صنفی برابری کے معاملے میں بہتری آئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’پریشان کن امر یہ ہے کہ 20 فیصد ممالک میں اس سلسلے میں یا تو کوئی بہتری آئی ہی نہیں یا وہ پیچھے ہیں۔‘

سعدیہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترقی تو ہوئی ہے لیکن انہوں نے خواتین کو اس کا حصہ نہیں بنایا۔

بی بی سی کے ’سو خواتین‘ پروگرام میں شرکت کے لیے لندن میں موجود یمن ٹائمز کی مدیر نادیہ السخاف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تو ان برسوں کی گنتی ہی چھوڑ دی ہے کہ جب سے ان کا ملک صنفی امتیاز کے حوالے سے آخری درجے پر آ رہا ہے۔

ان کے مطابق ’روزمرہ زندگی میں دیکھا جائے تو 2006 میں تین یمنی خواتین صدر کے عہدے کے لیے امیدوار تھیں اور بہت سی خواتین اہم عہدوں پر بھی فائز ہیں لیکن ہمارے ہاں زچگی کے عمل میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور چھ سے چودہ سال کی 35 فیصد لڑکیاں سکول نہیں جاتیں۔‘

عالمی اقتصادی فورم کی سعدیہ زاہدی کے مطابق صحارائی افریقہ کے ممالک میں اگرچہ خواتین نے زیادہ ترقی نہیں کی لیکن وہ ضرورتاً ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نارڈک ممالک کے اس فہرست میں اوپر رہنے کی وجہ وہاں حکومتوں کی جانب سے عوام کی بہبود میں دلچسپی کی روایت ہے: ’وہ چھوٹی معیشت والے ممالک ہیں جن کی آبادی بھی کم ہے۔ وہاں ٹیلنٹ کی قدر کی جاتی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔‘

صنفی امتیاز کی عالمی رپورٹ کے مطابق سب سے کم امتیاز آئس لینڈ میں پایا گیا جبکہ فن لینڈ اس فہرست میں دوسرے، ناروے تیسرے اور سویڈن چوتھے نمبر پر رہا۔

ایشیائی ممالک میں سب سے کم امتیاز فلپائن میں پایا گیا جو کہ مجموعی عالمی فہرست میں پانچویں نمبر پر رہا۔ ایشیا کی بڑی طاقتوں میں سے چین 69ویں جبکہ جاپان 105ویں نمبر پر رہا۔

دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل جرمنی کو فہرست میں 14ویں، برطانیہ کو 18ویں، کینیڈا کو 20 ویں اور امریکہ کو 23ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت کے معاملے میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق 96 فیصد تک ختم ہو چکا ہے جبکہ تعلیم کے معاملے میں یہ شرح 93 فیصد ہے اور 25 ممالک میں لڑکوں اور لڑکیوں سے سکولوں میں یکساں سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

تاہم صحت اور تعلیم کے برعکس اقتصادی برابری کی شرح اب بھی 60 فیصد کے قریب ہی ہے اور چاہے وہ ترقی پذیر ممالک ہوں یا ترقی یافتہ، اقتصادی معاملات میں خواتین کی اہم عہدوں پر موجودگی کم ہی ہے۔

اس سے زیادہ برے حالات سیاسی نمائندگی کے ہیں جہاں صرف اب تک کُل 21 فیصد فرق ہی پورا ہو سکا ہے۔

سعدیہ زاہدی کے مطابق اس رپورٹ کا مقصد غریب ممالک کو یہ یاد کروانا نہیں کہ ان کے پاس امیر ممالک کے مقابلے میں کم مواقع ہیں بلکہ انہیں حالات بہتر بنانے کے لیے ذرائع فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خواتین کسی بھی معیشت یا کمپنی کے انسانی سرمائے کا نصف ہوتی ہیں اور اگر اس ٹیلنٹ سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا تو یہ مردوں اور خواتین دونوں کا نقصان ہے۔‘

اسی بارے میں