برازیل:جسم فروشی میں ملوث گروہ گرفتار

Image caption پولیس کے مطابق یہ گروہ سنہ 2007 سے جسم فروشی کا اڈہ چلا رہا تھا

پولیس نے برازیل میں انگولا اور دیگر افریقی ممالک میں خواتین کو جسم فروشی کے لیے بھیجنے والے ایک گروہ کے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس نے اس گروہ کے دس دیگر افراد کی گرفتاری کے لیےساؤ پالو کے علاقے میں کارروائی کی ہے۔

برازیل کی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ گروہ امیر کاروباری افراد اور سیاستدانوں کے لیے ہر سال کم سے کم نوے خواتین کو جسم فروشی کے لیے بھیجتا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ گروہ سنہ 2007 سے جسم فروشی کا اڈہ چلا رہا تھا۔

برازیل کی وفاقی پولیس کے ذرائع کے مطابق اس گروہ نے گزشتہ چھ سالوں کے دوران 45ملین ڈالرز کا کاروبار کیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ خواتین برازیل کے علاقے ساؤ پالو سے تعلق رکھتی ہیں اور وہاں ماڈلز کے طور پر یا ٹی وی پر اداکاری کرتی ہیں۔

ان خواتین کو ہر ہفتے دس ہزار سے ایک لاکھ امریکی ڈالرز دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے تاہم اکثر اوقات انھیں یہ معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو کنڈومز کے بغیر سیکس کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق ان خواتین کو ایڈز سے بچانے کے لیے مبینہ طور پر جعلی ادویات دی جاتی ہیں۔

یہ گروہ ان خواتین کو ایک ہفتے میں دو بار انگولا بھیجتا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے ان خواتین کو جنوبی افریقہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی بھیجا جاتا تھا۔

اسی بارے میں