شام میں جنسی جہاد کی اصل حقیقت کیا؟

Image caption اس پہاڑی علاقے میں تیونس کی فوج اور القاعدہ کے شدت پسندوں کے درمیان کئی بار شدیدجھڑپیں ہوئی ہیں

تیونس میں حکام نے جب یہ دعویٰ کیا تھا کہ بہت سی نوجوان لڑکیاں اپنا گھر چھوڑ کر شام کی لڑائی میں حصہ لینے والے باغیوں کو جنسی خدمات دینے پہنچ رہی ہیں تو بہت سے لوگ اس بیان سے چونک گئے تھے اور انھوں نے اسے شک کی نظر سے دیکھا تھا۔

بی بی سی کے احمد مہر اس معاملے کی کھوج لگانے تیونس گئے اور انھوں نے ساری صورتِ حال کا جائزہ لیا۔

عالمی میڈیا میں کئی ماہ سے’سیکس جہاد یا جنسی جہاد‘ کے نام سے یاد کیے جانے والے اس معاملے کے بارے میں کئی طرح کی افواہیں آتی رہیں لیکن یہ کس سطح پر ہو رہا ہے اور شام میں جاری بغاوت سے اس کا کیا تعلق ہے، یہ سب پراسرار ہی رہا۔

اس کہانی کی جڑیں الجيريا کی سرحد سے متصل تیونس کے مرکزی مغربی علاقے جبل رحمہ چمبی (پہاڑی علاقہ) میں ہیں۔

دسمبر سنہ 2012 کے بعد سے اس پہاڑی علاقے میں تیونس کی فوج اور القاعدہ کے شدت پسندوں کے درمیان کئی بار شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس علاقے سے ایسی کئی خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار کیا ہے جو جنگ میں حصہ لینے والے شدت پسندوں کو جنسی خدمات فراہم کر کے ان کا حوصلہ بڑھانے کی مہم میں مصروف تھیں۔

حکام کے اس بیان کو تیونس میں شک کی نظر سے دیکھا گیا اور اس سے حراست میں لی گئی لڑکیوں کے خاندانوں کو دھچکا بھی لگا۔

تیونس کے دارالحکومت سے چار گھنٹے کے فاصلے پر چمبی کے نزدیک قصرین شہر میں ایک ایسی ہی ایک لڑکی کے خاندان سے ملاقات ہوئی۔

اس لڑکی کی ماں کا کہنا ہے کہ ان کی 17 سالہ بیٹی ان 19 خواتین میں شامل ہے جنھیں اس شہر میں گذشتہ دو ماہ کے دوران گرفتار کيا گیا ہے۔

’ان کی بیٹی بے گناہ ہے۔ وہ اس لیے بھی فکر مند ہیں کیونکہ انھیں لگتا ہے کہ ان کی بیٹی کو ذہنی بیماری ہے اور اسے بالغوں کے ساتھ رکھا گیا ہے جبکہ وہ نابالغ ہے۔ وہ کبھی بھی چمبی کی پہاڑوں پر نہیں گئی، وہ انتہائی مذہبی تھی اور صرف مسجد میں جاتی تھی‘۔

Image caption ’میری بیٹی اپنے پورے بدن کو برقع میں ڈھانپ کر رکھتی تھی، میری نظر میں یہ پاکیزگی ہے، انتہا پسندی نہیں‘

اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اس کی ماں نے کہا ’یہ ہمارے قدامت پسند معاشرے میں انتہائی حساس مسئلہ ہے‘۔

وہ کہتی ہیں ’میری بیٹی اپنے پورے جسم کو برقعے سے ڈھانپ کر رکھتی تھی، میری نظر میں یہ پاکیزگی ہے، انتہا پسندی نہیں‘۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی التوبہ مسجد جاتی تھی اور اسے وہیں سے گرفتار کیا گیا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’ہو سکتا ہے کہ انتہا پسندوں نے اس کے خیالات بدل دیے ہوں، میں نہیں جانتی، میں وزارتِ داخلہ سے درخواست کرتی ہوں کہ اسے رہا کر دیں کیونکہ اسے بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں‘۔

جنسی جہاد کے بارے میں کئی ماہ سے افواہیں پھیلی ہوئی ہیں لیکن یہ کس سطح پر ہو رہا ہے اور شام میں جاری بغاوت سے اس کا کیا واسطہ ہے، یہ واضح نہیں ہو سکا تھا۔

یہ تنازع ستمبر میں اس وقت پھر سے تازہ ہو گیا جب تیونس کے وزیرِ داخلہ لوتفی بن جِدو نے کہا تھا کہ خواتین اور لڑکیاں تیونس کے دور دراز علاقوں اور شام جا کر جہادیوں کو جنسی خدمات دے رہی ہیں۔

انھوں نے خصوصی طور پر شام کا ذکر کیا تھا۔تیونس کی قومی اسمبلی میں انھوں نے کہا ’تیونس کی لڑکیاں جنسی جہاد کے نام پر 20، 30 یہاں تک کہ 100، 100 باغیوں کے ساتھ ہمبستر ہو رہی ہیں اور جنسی تعلقات کے پھل لے کر واپس لوٹ رہی ہیں اور ہم خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں‘۔

اس سے ایک ماہ قبل تیونس کی قومی سلامتی کے سربراہ مصطفٰی بن امر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پولیس نے ’جہادی سیکس‘ کرنے والی متعدد خواتین اور لڑکیوں کو گرفتار کیا ہے۔

ان کے مخالفین نے ان کے بیانات کو غلط بیانی اور سیاسی پروپگینڈا قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

ریڈیو براڈکاسٹر ذوہیر ایلجس سمجھتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ حکمراں اسلامی جماعت شدت پسندی کو نظر انداز کر رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں ’وزیرِ داخلہ نے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے اور نہ ہی اپنے دعووں کا کوئی ثبوت پیش کیا‘۔

Image caption تیونس کے سکیولر اور لبرل معاشرے کے لیے ’جنسی جہاد‘ کا خیال ایک جھٹکے کی طرح ہے، زیادہ تر لوگ اسے سیاست کی حوصلہ افزائی اور جھوٹ بتا کر مسترد کرتے ہیں

ریڈیو براڈکاسٹر کا کہنا تھا ’انھوں نے ایک تنازع پیدا کیا اور ایسے ایک بڑے مسئلے کے طور پر پیش کیا، وہ اپنی سیاسی آزادی کے لیے جانے جاتے ہیں لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ دو مخالف جماعتوں کے درمیان جاری کھیل میں پھنس گئے ہیں‘۔

ہم نے تیونس کی وزارتِِ داخلہ سے حراست میں لی گئی لڑکیوں سے ملاقات کی اجازت مانگی جو ہمیں نہیں دی گئی لیکن وزارت کے ترجمان محمد علی امام نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت اور اقرار نامے ہیں جنھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

وہ کہتے ہیں’یہ ثبوت فیس بک صفحات، فون کالز اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ہیں، ہمارے پاس اقرار نامے بھی ہیں، تاہم ہم لڑکیوں کی شناخت ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارے معاشرے میں ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے‘۔

اپریل میں تیونس کے سب سے بڑے مذہبی رہنما مفتی عمان بتيخ نے یہ کہہ کر تنازع پیدا کر دیا تھا کہ تیونس کی لڑکیاں شام جا کر جنسی جہاد میں حصہ لے رہی ہیں۔

تیونس کے صدر منصف مرذوك نے انھیں تین ماہ بعد معطل کر دیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ یہ منہ کھولنے کی سزا تھی۔

تیونس کے دیگر اہم مذہبی سکالر شیخ فرید الباجي نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر ایسے خاندانوں کو جانتے ہیں جنھیں یہ پتہ چلا تھا کہ ان کے گھر کی لڑکیوں نے چمبی پہاڑوں اور شام جا کر جنسی جہاد میں حصہ لیا۔ ان لڑکیوں نے بظاہر شام میں جاری بغاوت کے بارے میں جاری کیے گئے فتوے کے بعد ایسا کیا۔

انھوں نے کہا ’یہ شدت پسند اپنے خود ساختہ فتووں کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ ضرورت حرام چیزوں کی بھی اجازت دیتی ہے اور اس معاملے میں باغیوں کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عارضی شادیوں کی اجازت دی گئی۔ اسلام رضا کارانہ عصمت فروشی کی اجازت نہیں دیتا‘۔

تیونس کے سکیولر اور لبرل معاشرے کے لیے ’جنسی جہاد‘ کا خیال ایک جھٹکے کی طرح ہے، زیادہ تر لوگ اسے سیاست کی حوصلہ افزائی اور جھوٹ بتا کر مسترد کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے فکر مند ہیں، سمجھتے ہیں کہ اس کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں