اسرائیل: مزید 26 فلسطینی قیدی رہا کرنے کی منظوری

Image caption اگست میں اسرائیل نے مذاکرات کی بحالی کے لیے خیر سگالی کے طور پر چھبیس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا

اسرائیل کی حکومت نے امن مذاکرات کی بحالی کے سمجھوتے کے تحت مزید 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا یہ دوسرا مرحلہ ہوگا۔ اس سے پہلے اسرائیل نے مذاکرات کی بحالی کے لیے خیر سگالی کے طور پر اگست میں 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان قیدیوں کو سنہ 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے سے پہلے کیے گئے پرتشدد جرائم کی پاداش میں جیل کی سزا ہوئی تھی۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اگست میں تین سالوں میں پہلی بار یروشلم میں براہِ راست امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔

امریکہ کی مدد سے شروع کیے جانے والے امن مذاکرات کی بحالی کے عمل کے تحت اسرائیل نے 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

جن قیدیوں کی حال میں رہائی ہونے والی ہے ان کے نام اتوار کو اسرائیلی جیل کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فہرست شائع ہونے کے 48 گھنٹے بعد قیدیوں کی رہائی عمل میں لائے جائے گی اور اس دوران اسرائیلی حکام کے پاس قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا موقع ہوگا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق رہا ہونے والے قیدیوں نے جیل میں 19 سے 28 سال کے درمیان کا عرصہ گزارا ہے۔

14 اگست کو رہا ہونے والے قیدیوں کو بس کے ذریعے غربِ اردن میں بیتونہ کی چیک پوسٹ تک لے جایا گیا تھا۔

دوسرے مرحلے میں قیدیوں کی رہائی کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں دی گئی۔

اسرائیل میں قید باقی فلسطینی قیدیوں کو نو مہینوں کے دوران چار مرحلوں میں رہا کیا جائے گا جس کا انحصار امن مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ قیدیوں کے رہائی کے ساتھ مقبوضہ غربِ اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

اسرائیل کی جانب سے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے تازہ اعلانات کی وجہ سے امن مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ ستمبر 2010 میں بھی یہودی بستیوں کے معاملے کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے اور اس بار بھی فلسطینی مذاکرات کاروں نے اسرائیل پر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔

اسرائیل کے 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادیوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسی بارے میں