ترکی: ایشیا کو یورپ سے ملانے والی سرنگ کا افتتاح

Image caption افتتاح کے باوجود ابھی سرنگ عام آمدورفت کے لیے نہیں کھولی جائے گی

ترکی میں آبنائے باسفورس میں بنائی جانے والی زیرِ آب سرنگ کا افتتاح منگل کو کیا جا رہا ہے جو کہ استنبول کے ایشیائی اور یورپی ساحل کو ریل کے ذریعے ملانے کا نیا راستہ ثابت ہوگی۔

اس منصوبے پر 2004 میں کام شروع ہوا تھا لیکن آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے عمل کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔

زلزلوں کا اثر سہنے کی طاقت رکھنے والی اس ایک اعشاریہ چار کلومیٹر طویل سرنگ کی تعمیر پر 4 ارب ڈالر لاگت آئی ہے جن میں سے ایک ارب ڈالر جاپان نے فراہم کیے ہیں۔

ترک حکام کے مطابق اس سرنگ سے نہ صرف آبنائے باسفورس پر بنے دونوں پلوں پر رش بلکہ آلودگی میں بھی کمی ہوگی۔

ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان اس منصوبے کے بہت بڑے حامی رہے ہیں جبکہ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اس شہر کے لیے اردوان کے ایک عالیشان منصوبے سے زیادہ کچھ نہیں جس کے کبھی وہ میئر تھے۔

خیال رہے کہ ترکی میں تعمیرِ نو کا عمل عوامی تنقید کا شکار رہا ہے اور رواں برس ہی استنبول میں تاریخی غازی پارک کی تعمیرِ نو کے معاملے پر حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے مابین پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افتتاح کے باوجود یہ سرنگ عام آمدورفت کے لیے ابھی نہیں کھولی جائے گی۔

استنبول چیمبر آف اربن پلینرز کے صدر طیفون خرامان کا کہنا ہے کہ ’جو حصہ اس وقت کام کر رہا ہے وہ بہت کم ہے اور باقی پر کام مارچ تک ٹل گیا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم حیران ہیں کہ سرنگ کے افتتاح میں اتنی جلدی کیوں کی جا رہی ہے۔‘

افتتاحی تقریب میں اعلیٰ ترک حکام کے علاوہ جاپان کے وزیراعظم شیزو ایبے بھی شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں