اسرائیل نے مزید 26 فلسطینی رہا کر دیے

Image caption پانچ فلسطینی قیدیوں کو غزا میں رہا کیا گیا جبکہ اکیس کو غربِ اردن بھیج دیا گیا

اسرائیل کی حکومت نے امن مذاکرات کی بحالی کے سمجھوتے کے تحت مزید 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

اسرائیل میں قید فلسطینی قیدیوں کو نو مہینوں کے دوران چار مرحلوں میں رہا کیا جا رہا ہے جس کا انحصار امن مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔

اسرائیل:مزید 26 فلسطینی قیدی رہا کرنے کی منظوری

اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل نے مذاکرات کی بحالی کے لیے خیر سگالی کے طور پر اگست میں 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔

رہا ہونے والے قیدیوں نے اسرائیلی جیل میں 19 سے 28 سال کے درمیان کا عرصہ گزارا ہے اور انھیں مبینہ طور پر قتل کرنے کے جرائم کی پاداش میں یہ سزائیں ہوئی تھیں۔

پانچ فلسطینی قیدیوں کو غزہ میں رہا کیا گیا جبکہ اکیس کو غربِ اردن بھیج دیا گیا۔

اسرائیل کے آفر جیل سے بدھ کو ان قیدیوں میں سے پانچ کو غزہ میں داخل ہونے کے لیے اریظ اور اکیس کو غربِ اردن میں جانے کے لیے بیتونہ چیک پوسٹ تک گاڑیوں میں لے جایا گیا۔

غربِ اردن میں بی بی سی کی نامہ نگار یالوندے کنیل کے مطابق غزہ میں رہا ہونے والے افراد کو سیاسی قیدیوں فلسطینی تحریک کے لیے ہیرو کے طور دیکھا جا رہا ہے جبکہ اسرائیلی عوام اپنی حکومت کے اس فیصلے سے خوش نہیں۔

غزہ میں قیدیوں کی آمد کے موقع پر آتش بازی کی گئی اور رہائی پانے والی افراد کو گاڑیوں میں جلوس کی شکل میں لے جایا گیا۔

ادھر غربِ اردن میں رہائی پانے والوں کو رملہ لے جایا گیا جہاں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمد عباس نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔

اس موقع پر محمود عباس نے کہا کہ باقی قیدیوں کو دو مہینوں میں رہا کیا جائے گا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ فلسطینی صدر نے کہا کہ’تمام قیدیوں کی رہائی کے بغیر کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو گا۔‘

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اگست میں تین سالوں میں پہلی بار یروشلم میں براہِ راست امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔

امریکہ کی مدد سے شروع کیے جانے والے ان امن مذاکرات کی بحالی کے عمل کے تحت اسرائیل نے 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

جمعرات کو رہا ہونے والے قیدیوں میں سے ایک کے علاوہ باقی سب کو سنہ 1993 میں ہونے والے اوسلو معاہدے سے پہلے قتل کے جرائم کرنے کی پاداش میں جیل کی سزائیں ہوئی تھی۔ اسرائیل میں ان رہائیوں کے خلاف احتجاج بھی ہوا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اپنے خطاب ان افواہوں کی بھی تردید کی کہ قیدیوں کو اس سمجھوتے کے تحت رہا گیا جا رہا ہے جس میں اسرائیل کو نئی بستیاں تعمیر کرنے کی اجازت ہوگی۔

Image caption امن مذاکرات کی بحالی کے عمل کے تحت اسرائیل نے 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا

فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر اسرائیل کی مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی ہے جہاں دائیں بازو کی جماعتیں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو روکنے کی کوششوں میں ناکام ہو رہے ہیں۔

قیدیوں کی رہائی کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی میڈیا میں خبریں گردش کرنے لگیں کہ اسرائیلی حکومت نے مشرقی یروشلم میں 1500 نئی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس حکومتی اعلان کو سخت گیر موقف رکھنے والی جمعاعتوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ ستمبر 2010 میں بھی یہودی بستیوں کے معاملے کی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے اور اس بار بھی فلسطینی مذاکرات کاروں نے اسرائیل پر اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا الزام لگایا ہے۔

اسرائیل کے 1967 میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے بنائی گئی ایک سو سے زیادہ آبادیوں میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ یہودی رہتے ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں اور غزہ کی پٹی کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے مگر اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اسی بارے میں