’میری دادی کو کیوں مارا؟‘

Image caption یہ پہلی بار ہے کہ ڈرون حملوں سے متاثرہ پاکستانی افراد نے اپنی کہانی امریکی کانگریس میں سنائی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو بچوں نے امریکی ایوانِ نمائندگان سے سوال کیا ہے کہ ایک ڈرون حملے میں ان کی دادی کو کیوں مارا گیا؟

شمالی وزیرستان کے ایک پرائمری سکول کے استاد رفیق الرحمان اپنے دو بچوں، تیرہ سالہ زبیر اور نو سالہ نبیلہ کے ہمراہ امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ مومنہ بی بی کو اکتوبر 2012 میں اس وقت ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے پوتے اور پوتی کے ساتھ کھیت سے سبزی چننے گئی تھیں۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ڈرون حملوں سے متاثرہ پاکستانی افراد نے اپنی کہانی امریکی کانگریس میں بتائی ہے۔

رفیق الرحمان نے مترجم کی مدد سے امریکی قانون سازوں کو بتایا ’مجھے آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ میری ماں کا کیا قصور تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ بعد میں ذرائع ابلاغ نے اس ڈرون حملے کے بارے میں کہنا شروع کر دیا کہ تین، چار یا پانچ شدت پسند مارے گئے۔

’لیکن اس حملے میں صرف میری والدہ ہلاک ہوئی تھیں۔ نہ وہ شدت پسند تھیں، نہ ہی امریکہ مخالف! میری والدہ نے میرے خاندان کو ایک لڑی میں پرو کر رکھا ہوا تھا۔ ان کے بعد میرا خاندان بکھر گیا ہے۔‘

ان کے تیرہ سالہ بیٹے زبیر نے کانگریس کو بتایا کہ ’میں اپنی دادی کے ساتھ کھیت میں سبزیاں کاٹ رہا تھا تو مجھے ڈرون کی آواز آئی۔ میں ڈرون سے بالکل خوفزدہ نہیں ہوا کیونکہ میں نے سوچا کہ میں تو دہشت گرد نہیں ہوں۔ لیکن تھوڑی دیر بعد دھماکہ ہوا، اندھیرا چھا گیا، زمین ہلنے لگی اور ہم خوف کے مارے بھاگ گئے۔‘

زبیر نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے کی وجہ سے بڑی عید انہوں نے ہسپتال میں اپنے آپریشن کا انتظار کرتے ہوئے گزاری کیونکہ ان کے والد کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔

اس سے پہلے ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے رکن ایلن گریسن کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بغیر پاکستان کی منظوری کے اس طرح کے حملے نہیں ہو سکتے۔

ان کا کہنا تھا ’پاکستانی ایئر فورس خاصی طاقتور ہے اور اس کے پاس قوت ہے۔ اپنی فضائی سرحد پر وہ جب چاہے پابندی لگا سکتے ہیں۔ پاکستان کی منظوری کے بغیر اس طرح کی کارروائی ممکن ہی نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گُذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں اب تک صرف 67 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جو کُل ہلاکتوں کا تقریباً تین فیصد بنتا ہے۔

اسی بارے میں