شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے آلات تلف: عالمی مشن

Image caption شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت شامی کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی نگرانی کرنے والے عالمی مشن کا کہنا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے آلات مکمل طور پر تلف کردیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی نگرانی کرنے والے عالمی مشن نے شام کو کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے یکم نومبر تک کی مہلت دی تھی۔

آرگنائزیشن آف پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) مشن شامی ہتھیاروں کی تلفی کے بارے میں امریکہ اور روس کے معاہدے کے بعد منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں قائم کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے پاس تقریباً ایک ہزار ٹن زہریلا کیمیائی مواد ہے اور طے شدہ منصوبے کے تحت اسے آئندہ سال کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر متفق ہو گئی تھی کہ شامی ہتھیار تلف کر دیے جائیں۔

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد امریکہ اور روس کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں پیش کی گئی تھی۔ اس معاہدے سے قبل روس نے شامی حکام کو کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ کیا تھا۔

شام میں جاری تنازعے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا معاملہ رواں برس اگست میں اس وقت سامنے آیا تھا جب شامی دارالحکومت دمشق کی نواحی بستی غوطہ میں کیمیائی حملے کے بعد امریکہ نے شام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس کیمیائی حملے میں 1400 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اس حملے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا موقف ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار شامی حکومت تھی جبکہ روس اور شام دونوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال حکومت نے نہیں بلکہ باغیوں نے کیا تھا۔

.

اسی بارے میں