امریکہ: لاس اینجلس کے ہوائی اڈے پر فائرنگ، ایک شخص ہلاک ، متعدد زخمی

Image caption لاس اینجلس کے ہوائی اّے پر پروازوں میں تھوڑی دیر کے لیے رکاوٹ پیدا ہوئی تھی تاہم بعد میں صورتحال معمول پر آ گئی۔

امریکہ کے شہر لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

نقل و حمل کی سیکورٹی انتظامیہ کے مطابق ان کے ایک چالیس سالہ ملازم کی اس واقعے میں ہلاک ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے لیے ذمہ دار ایک مشتبہ شخص کو زحمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ حراست میں لیے گئے 23 سال کے اس مشتبہ حملہ آور کا نام پال سيانسيا ہے۔

اس مصروف ہوائی اڈے سے پرواز کرنے اور اترنےوالے طیاروں کی سروس میں تھوڑی دیر کے لیے رکاوٹ پیدا ہوئی تھی تاہم بعد میں صورتحال معمول پر آ گئی۔

لاس اینجلس پولیس کے سربراہ پیٹرک گینن نے ایک پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے کہا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر بیس منٹ پر مسلح شخص ٹرمینل تین پر پہنچا۔

اس کے بعد اس نے ایک بیگ سے رائفل نکالا اور ٹرمینل پر فائرنگ کرنے لگا۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا، ’ٹرمینل پر فائرنگ کرنے کے بعد مسلح شخص نے سیکیورٹی جانچ کے علاقے میں گیا اور وہاں بھی اس نے فائرنگ جاری رکھی۔

واقعے کے عینی شاہد برائن کیچ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہوں نے ٹرمینل نمبر تین کے اندرونی سیکورٹی دروازے پر تقریبا درجن بھر گولیوں کی آواز سنی۔

پولیس نے بتایا کہ حکام نے کارروائی کرتے ہوئے پہلے مسلح شخص کو زخمی کیا پھر اسے حراست میں لے لیا گیا۔

فائرنگ کے اس واقعے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

لاس اینجلس کے میئر ایرک گارسیٹي نے بتایا کہ ایئر پورٹ کے اندر اندر موجود لوگ اب محفوظ ہیں اور باہر جانے والے طیاروں نے اضافہ شروع کر دیا ہے۔

ساتھ ہی لاس اینجلس آنے والے طیارے کی فریکوئنسی سے آدھی تعداد میں لینڈنگ کر رہے ہیں۔

امریکی صدر کے دفتر وہائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر براک اوباما کو اس واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔

اسی بارے میں